سینیٹ الیکشن اور ہارس ٹریڈنگ کا رجحان

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں ان دنوں سینیٹ انتخابات کا معاملہ پورے زور شور سے جاری ہے، ایوان بالا کے آدھے ارکان اپنی مدت مکمل ہونے کے قریب ہیں اور چھ سالہ آئینی مدت مکمل کرکے آئندہ ماہ ریٹائر ہوجائینگے۔

ای سی پی اگلے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنے کے لئے تیار ہے جبکہ کھلی رائے شماری کے ذریعے انتخابات کروانے کے بارے میں سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا۔

سینیٹ انتخابات نے ملک میں ایک سیاسی بھونچال پیدا کردیا ہے کیونکہ حزب اختلاف نے کھلی رائے شماری کے ذریعے انتخابات کے انعقاد کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔

حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی اور اس کے بعد ایک صدارتی آرڈیننس نافذ کیا گیا کیوں کہ حکومت کے پاس قانون سازی کا وقت نہیں ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اسے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

سینیٹ الیکشن سے قبل ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح 2018 کے سینیٹ انتخابات میں متعدد قانون سازوں نے اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دینے کے لئے رشوت وصول کی۔

سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا پھیلاؤ مشہور ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ویڈیو منظر عام پر آئی ہوجس میں سیاستدان اپنی وفاداری اور اپنے ضمیر کو بیچتے دکھائی دیں۔ پولنگ میں ووٹ ڈالنے سے چند روز قبل قانون سازوں کو نقد رقم کی وصولی حیرت کا باعث ہے۔

ویڈیو منظر آنے پر آنے کے بعد کئی سوالات نے بھی جنم لیا ہے اور یہ خدشات بھی ظاہر کئے جارہے ہیں کہ ویڈیو جعلی ہوسکتی ہے۔

ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کو چیلنج کرنا چاہئے تاہم اس سے یہ ضرور ثابت ہوا ہے کہ سینیٹ انتخابات سے قبل بدعنوانی عروج پر پہنچ چکی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سینیٹ  الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کرنیوالے عناصر ایک بار پھر متحرک ہیں اور پچھلے انتخابات کے دوران رونما ہونے والی باتوں کو دہرانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے بدعنوانی سے دوچار نظام کی حمایت کرنے اور ہارس ٹریڈنگ پرپی ڈی ایم پر تنقید کی ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ پیسوں کے لین دین کے ذریعے پارلیمنٹ میں پہنچنے والے سیاستدان پھر قوم کی خدمت کے بجائے پیسے کمانے کے چکر میں لگے رہتے ہیں ۔

پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس نے ہارس ٹریڈنگ کیخلاف علم بلند کیا اور 2018 میں بیس قانون دانوں کو اپنے ووٹ بیچنے پر پارٹی سے نکال دیا تھا۔

وزیر اعظم کا ارادہ بلاشبہ نیک نیتی پر مبنی ہے اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے کھلی رائے شماری کا انعقاد بہت ضروری ہے لیکن اب اپوزیشن کو بھی اس معاملے پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ اس سے جمہوریت کو تقویت ملے گی۔

Related Posts