وزیراعظم کااعتماد کا ووٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر حکومتی اتحاد کو شکست کے بعد کل قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، 342 رکنی ایوان میں دو سیٹیں خالی ہونے کی وجہ سے 340 میں 179ارکان نے اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں شرکت اور 178 ارکان نے وزیراعظم پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کرکے ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے اپنابھرپور کردار ادا کیااور دلچسپ بات تو یہ تھی کہ وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر عمران خان نے 176 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ سینیٹ الیکشن میں غیر متوقع شکست کے بعد ان کے 2 ووٹوں میں اضافہ ہوا۔

وزیراعظم کااعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ایک دیرینہ روایت رہی ہے، محمد خان جونیجو 24 مارچ 1985 کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے والے ملکی پارلیمانی تاریخ کے پہلے وزیراعظم تھے جبکہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے 1993 میں سپریم کورٹ سے بحالی کے بعد ایوان سے رضاکارانہ طور پراعتماد کا ووٹ لیا تھا ۔آئین کی آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت 1985 سے 2008 تک محترمہ بے نظیر بھٹو ، میاں محمد نواز شریف ، میر ظفر اللہ جمالی ، چوہدری شجاعت ، شوکت عزیز اور یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔یکم نومبر 1989 کو محترمہ بے نظیر بھٹو جبکہ اگست 2006 میں شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام رہی ۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے رضا کارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلے نے ملک میں سیاسی ہیجان کسی حد تک کم کردیا ہے کیونکہ اس سے قبل اپوزیشن کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے بعد وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کے مطالبات سامنے آرہے تھے تاہم عمران خان نے بروقت فیصلہ کرکے پارلیمان کے اندر فوری تبدیلی اور عدم اعتماد کی تحریک کا راستہ روک دیا ہے۔

سال 2018ء میں پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں سیاسی ہیجان برپا ہے ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان روابط کمزور ہونے کی وجہ سے قانون سازی اور دیگر امور تعطل کا شکار رہے ہیں اور ملک میں مسائل کا انبار بڑھتا جارہا ہے لیکن موجودہ حکومت نے اپنی تمام تر کوششوں کے بعد معاشی مسائل پر کسی حد تک قابو پالیا ہے اور آج زرمبادلہ کے ذخائر بھی مثبت ہیں لیکن بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے عوام موجودہ حکومت سے نالاں ہیں۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دے،مہنگائی کم اور روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں، تعلیم اور صحت کا نظام ٹھیک کریں اور ملک میں جمہوریت کے استحکام اور تسلسل کیلئے ضروری ہے کہ محاذآرائیوں کے بجائے افہام وتفہیم کی سیاست کو فروغ دیا جائے تاکہ پارلیمانی سیاست کو فروغ دیا جاسکے۔

Related Posts