امریکی صدر جو بائیڈن انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے میں مصروف ہیں۔ اس بات سے قطعِ نظر کہ وہ وعدے قابلِ فہم تھے یا محض سیاسی طور پر غیر روایتی ریاستوں سے ڈیمو کریٹس کی جیت کیلئے کیے گئے، گزشتہ 2 ہفتوں میں جو بائیڈن نے عالمی سطح پر اپنے 3 وعدوں کو بہت اہم قرار دیا ہے۔ پہلا وعدہ افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلاء کا ہے۔ رواں ہفتے کے آخری دنوں میں خطے میں قیامِ امن کا پائیدار حل تلاش کرنے کیلئے کسی لائحۂ عمل کو حتمی شکل دئیے بغیر کام شروع کیا گیا۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو حقیقی طور پر یہ خوف ہے کہ فوج کے انخلاء سے نئی مصیبت جنم لے سکتی ہے۔ افغانستان میں سالہا سال سے جاری محنت سے کی جانے والی کاوشوں کا ذکر چھوڑئیے تو سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کو منانے کیلئے جلد بازی کی جارہی ہے یا پھر یہ خطے کیلئے کچھ پوشیدہ تزویراتی وجوہات کی بناء پر ایک دانستہ اقدام ہے؟ کہانی کے اس حصے پر طویل گفت و شنید کی ضرورت ہے جو کسی اور موقعے پر کی جائے گی۔
حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ امریکا رواں برس 22 سے 23 اپریل کو صدر جو بائیڈن کی سرکردگی میں منعقدہ ماحولیاتی کانفرنس کے ساتھ ہی پیرس معاہدے میں واپس آچکا ہے۔دراصل ماحولیاتی تبدیلیوں پر امریکی مداخلت کیلئے ایک منطقی فیصلہ سامنے آیا اور سی او پی 26 کیلئے ایک لائحۂ عمل تشکیل دیا گیا جسے عالمی سطح پر بہت سراہا گیا ہے۔
ایک اور اہم اقدام جو صدر جو بائیڈن نے عالمی سطح پر اٹھایا وہ یہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ میں آرمینیائی قوم کی ہلاکتوں کو باضابطہ طور پر ایک نسل کشی اور قتلِ عام کے طور پر تسلیم کیا گیا جسے ترکی نے فوری طور پر مسترد کردیا تھا۔ جیسے ہی امریکی صدر نے اپنا فیصلہ مشتہر کیا، پاکستان نے بھی ترکی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کردیا ہے۔
گزشتہ ہفتے 24 اپریل کو اپنے ایک بیان کے تحت جو بائیڈن امریکا کے وہ پہلے صدر قرار پائے جنہوں نے عثمانی سلطنت میں 1915ء میں شروع ہونے والی ہلاکتوں کو قتلِ عام کے طور پر تسلیم کیا جس میں ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ آرمینیائی باشندوں کی جان لی گئی۔
آرمینیائی قوم ہر سال 24 اپریل کا دن نسل کشی کی یادگار کے طور پر مناتی ہے اور اسے قتلِ عام قرار دیتی ہے تاکہ عثمانی دور میں مرنے والے ان تمام لوگوں کو یاد رکھا جاسکے اور ہر سال یہ عزم کیا جاتا ہے کہ اس قسم کا ظلم و ستم پھر کبھی نہیں ہونے دیا جائے گا۔
صدر جو بائیڈن کے اِس اعلان سے کہ امریکی عوام ان تمام آرمینیائی باشندوں کا احترام کرتے ہیں جو آج سے 106 سال قبل شروع کیے گئے قتلِ عام میں ہلاک ہو گئے تھے، امریکا اور ترکی کے مابین تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے جبکہ ترکی پہلے واضح کرچکا تھا کہ ماضی کی ان ہلاکتوں کو نسل کشی تسلیم کیے جانے کے بعد نیٹو اتحادیوں کے مابین تعلقات کو مزید نقصان پہنچے گا۔
دوسری جانب امریکا کا آرمینیائی قوم کے قتلِ عام کو تسلیم کرنا کوئی اچانک کیا گیا فیصلہ نہیں ہے جو صرف انتخابی مہم کیلئے منظرِ عام پر آیا ہو۔ آرمینیا نے سالہا سال امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک کیلئے مہم چلائی کہ وہ ماضی کی ان ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دیں۔ فیصلے سے 1 ہفتہ قبل امریکی کانگریس کے 100 ممبران کی جانب سے لکھے گئے خط میں جو بائیڈن پر زور دیا گیا کہ وہ ان ہلاکتوں کو قتلِ عام تسلیم کریں جس سے امریکی صدر پر ڈالا جانے والا سیاسی دباؤ ظاہر ہوتا ہے۔
جو بائیڈن کے فیصلے کو سراہتے ہوئے آرمینیائی وزیرِ اعظم نیکول پاشینیان نے اسے انسانی حقوق اور عالمی اقدار کے تحفظ کیلئے امریکا کا اٹل عزم قرار دے دیا اور امریکا میں موجود آرمینیا کے تحفظات پر کام کرنے والے گروپ اور اسمبلی نے بھی اسے امریکی تاریخ میں ایک قابلِ قدر لمحہ ٹھہرایا۔
ترکی نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ میں آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کا منصفانہ طور پر اعتراف کرتے ہوئے ہلاکتوں کے کسی منظم طریقے اور نسل کشی کے ارادے سے کیے جانے کی سختی سے تردید کی۔ ترک وزارتِ خارجہ نے جو بائیڈن کے بیان کو کسی علمی و قانونی بنیاد کے بغیر قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ ہلاکتوں کو نسل کشی کے طور پر بیان کرنے کیلئے عالمی قانون کے تحت درکار شرائط پوری نہیں کی گئیں۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ 1915ء کے واقعات کی نوعیت سیاستدانوں کے موجودہ سفارتی مقاصد یا نظریات کے تحت تبدیل نہیں ہوسکتی، اس طرح کے رویے سے تاریخ کو مضحکہ خیز حد تک مسخ کیے جانے کے علاوہ کوئی اور مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
کوئی بھی علمی تحقیق کیے بغیر 106 سال بعد آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کیلئے ترکی کو موردِ الزام قرار دینا جو بائیڈن دورِ حکومت کے پہلے 100 دنوں کا بد ترین فیصلہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امریکا ترکی کے آزادانہ فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ ترکی بھی کافی عرصے سے مغرب اور امریکا کی توہین آمیز حرکتوں اور اقدامات کے خلاف آواز بلند کرتا آیا ہے۔ عالمی سطح پر سلطنتِ عثمانیہ کی اسلامی اقدار و روایات کا فروغ، پرچار اور ترکی کو آہستہ آہستہ اسلامی ماحول میں ڈھالنے کے اقدامات بھی امریکی فیصلے کی اہم وجہ ہوسکتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر روس اور چین کے ساتھ تعلقات بند کرنے سمیت اسٹرٹیجک امور پر دیگر اقدامات کے باعث امریکا اور ترکی کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری ایک بڑا اقدام قرار دیا جارہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صدر جو بائیڈن نے ایک ٹیلیفونک گفتگو کے ذریعے ترک صدر طیب اردگان کو آرمینیا کے باشندوں کی ہلاکتوں کو قتلِ عام قرار دئیے جانے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے باہمی تعاون کے شعبوں اور اختلافِ رائے کے مؤثر انتظام کے ساتھ دو طرفہ تعمیری گفتگو استوار کرنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی تھی اور گفتگو ابلاغی اعتبار سے مؤثر رہی۔
دونوں ممالک کے صدور نے جون میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقعے پر دو طرفہ میٹنگ کے انعقاد پر اتفاق کیا۔ چنانچہ ترکی کے پاس دوست اور ہم خیال ممالک میں لابنگ اور امریکی فیصلے کو تبدیل کرانے یا بے اثر کرنے کیلئے کم و بیش 2 ماہ کا عرصہ موجود تھا۔ اس وقت ترکی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ختم کرنے کیلئے امریکی فیصلے کے خلاف مسلم قیادت اور آزاد میڈیا بھی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ دراصل امریکا، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے مسلم مخالف جذبات اور مذہبی تعصبات کے خلاف ایک فوری بیانیہ تیار کرکے مشتہر کرنے کی ضرورت ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ ترکی کو سفارتی محاذ پر مزید کاوشوں، متحرک اور فعال سفیروں کی ضرورت ہے جو سفارت کاری، میڈیا اور مواصلات کی مداخلت کے ذریعے اپنے اپنے ذرائع سے سیاسی و سفارتی امداد کو متحرک کرسکیں۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں ترک سفارت خانہ بھی زیادہ فعال اور ذمہ دار نظر آئے گا۔