کروڑوں کی بدعنوانی، پی آئی اے کے 2 سابق چیئرمین اور سی ای او کے خلاف مقدمہ درج

تازہ ترین

تازہ ترین

PIA plane faces crisis-like situation in Islamabad

کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کے 2 سابق چیئرمین اور 1 قائم مقام سی ای او کے خلاف کروڑوں کی بدعنوانی کے الزام پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی ائیر لائن کے تینوں اعلیٰ عہدیداران پر 1 اعشاریہ 25 ارب روپے کی کرپشن کا الزام عائد کیا گیا ہے۔کراچی میں ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے پی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر شعبۂ انجینئرنگ کو گرفتار کر لیا۔

سابق ڈائریکٹر (انجینئرنگ) مقصود احمد کو بدعنوانی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ اسی کیس میں نامزد دیگر ملزمان میں سابق چیئرمین ناصر جعفر، سابق قائم مقام سی ای او برنڈ ہلڈنبرانڈ اور سابق چیئرمین عرفان الٰہی شامل ہیں۔

ملزمان کے خلاف دفعہ409، 420، 109 اور 34 تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ منشیات ایکٹ 1947ء کی دفعہ (2) 5 کے تحت درج کیے گئے مقدمے کے حوالے سے ترجمان ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ مقصود احمد کو ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق میگا کرپشن کیس میں دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کرنے کیلئے شواہد پر کام جاری ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے پی آئی اے کے خصوصی آڈٹ کا حکم جاری کیا تھا جس میں بدعنوانی پر تحقیقات بھی شامل تھیں۔

ایف آئی اے کی تحقیقات سے یہ انکشاف سامنے آیاہے کہ سابق چیئرمین پی آئی اے ناصر جعفر اور عرفان الٰہی اور سابق قائم مقام سی ای او سمیت دیگر ملزمان نے پی آئی اے اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا بھاری بھرکم نقصان پہنچایا۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ اسلام آباد زون نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ میں ملوث مرکزی ملزم رائے جاوید ندیم کواسلام آباد سے گرفتارکرلیا۔

ملزم فراڈ اور جعل سازی کے سنگین جرائم میں ملوث تھا اور سادہ لوح افراد کو بیرون ملک ملازمت کے سبز باغ دکھا کر لوٹا کرتا تھا، ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ اسلام آباد زون نے ملزم کو گزشتہ روز اسلام آباد سے گرفتار کرلیا۔

مزید پڑھیں: انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم رائے جاوید ندیم کوایف آئی اے نے گرفتار کرلیا

Related Posts