اسلام آباد: پاکستان نے سرحد پار سے دراندازی کے بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی قبضے کے خلاف تحریک میں مقامی لوگ شریک ہیں۔
ایک بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کشمیری عوام کیخلاف جاری ظلم وبربریت سے خطے میں امن و سلامتی کو خطرہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس تنازعہ کو حل کرنا چاہیے۔ترجمان نے یہ بیان واشنگٹن میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے بیان کے جواب میں جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں 5 اگست 2019 کو بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی قبضہ اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے خلاف تحریک میں مقامی لوگ شریک ہیں ، پاکستان پر دراندازی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 1947 کے بعد سے جموں و کشمیر تنازعہ پاکستان اور بھارت کے مابین بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق حل کامنتظر ہے اور اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس تنازعہ کو حل کرنا چاہیے۔