کراچی میں گیس کابحران

تازہ ترین

تازہ ترین

ایل این جی کی درآمد تعطل کا شکار ہونے سے ملک میں گیس بحران پیدا ہو گیا ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کی قلت کے باعث صنعتوں کو فراہمی بند کررکھی ہے ،کھاد سیکٹر کو بھی گیس کی سپلائی معطل ہے اور صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز کو ایک ہفتہ کیلئے بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں تاہم عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچانے کے لئے گیس کی سپلائی پاور کمپنیوں کو دی جارہی ہے۔

پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے اور صنعتوں کو توانائی کی فراہمی بند ہونے سے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں جبکہ امسال کورونا کی وجہ سے پہلے ہی صنعتوں کی بندش سے اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے اور اب گیس کی بندش صنعتوں کو مزید متاثر کریگی۔

صنعتکاروں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے صنعتوں کی گیس بحال نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا ہے اور وزیراعظم عمران خان سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ وہ ایس ایس جی سی کو صنعتوں کو مکمل پریشر کے ساتھ فوری طوری پرگیس بحال کرنے کی سختی سے ہدایات جاری کریں بصورت دیگر صنعتکار اپنی فیکٹریاں شفٹ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

سندھ کے وزیرتوانائی امتیاز شیخ کاکہناہے کہ گرمیوں میں سی این اسٹیشنز اور صنعتوں کو گیس فراہم نہ کر کے معاشی بحران پیدا کیا جارہا ہے، سوئی سدرن گیس گمبٹ گیس فیلڈ میں فنی خرابی کا جواز بنا کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بعد گیس کی بندش کر کے صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

گیس کا بحران کوئی نئی بات نہیں ہے، سردیوں میں بھی ہرسال گیس کی قلت کا سامنا رہتا ہے، اس وقت سی این جی سیکٹر کو مکمل بند کرنے سے بہتر ہے کہ گیس کی کمی کے دنوں میں چند گھنٹے کے لئے چلنے دیا جائے تاکہ سی این جی اسٹیشنوں کی مشینری خراب نہ ہو اور عملے کی تنخواہوں کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے جبکہ حکومت کو بھی ٹیکسوں کی مد میں کچھ آمدنی ہو کیونکہ اس سے لاکھوں افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے۔

صنعتوں کی گیس بحال نہ ہونے کے باعث پیدواری سرگرمیاں رک گئی ہیں اورپیداواری سرگرمیاں معطل ہونے سے برآمدی آڈرز کی تکمیل خطرے میں پڑ گئی ہے جبکہ بڑے پیمانے پر برآمدی آڈرز منسوخ ہونے کا خدشہ ہے۔

موجودہ حالات میں برآمدکنندگان پرانے آڈرز کی ڈیلیوری دینے کے لیے فکرمند ہیں کیونکہ فی الوقت پیداواری سرگرمیاں معطل ہونے سے پرانے آرڈرز کی تکمیل مشکل ہے، لہٰذا ایسی صورتحال میں برآمدکنندگان نئے برآمدی آرڈرز کیسے لیں۔؟

حکومت کو چاہیے کہ گیس بحران کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے کیونکہ جب ملک کے ہر صوبے میں مقامی سرمایہ کار احتجاج کر رہے ہیں تو غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کیونکر کریں گے۔

Related Posts