د یکھنے میں مرکز اور سندھ کی لڑائی جاری ہے۔ وزیر اعظم عمران اپنے وزراء کے ذریعے آصف علی زرداری کی حکومت کو معیشت کی تباہی اور غریبوں کی نوکریاں چھیننے کے مسلسل طعنے دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر مکمل لاک ڈاؤن ہوا تو لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور معاشی بدحالی سے پھیلنے والی بربادی کی ذمہ داری زرداری خاندان اور ان کے سیاسی نمائندگان پر ہو گی۔
بلاول بھٹو خود کو غصے میں لا کر سخت ترین الفاظ میں مرکز کی اس پالیسی کی مزمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ آزاد کشمیر میں طالبان کے ایک پرانے ساتھی کو اسمبلی میں لانے کا گولہ بارود بھی بنی گالا کی طرف داغ رہے ہیں۔ ہر روز خبروں میں مرکز بمقابلہ سندھ حکومت کا چرچہ ہوتا نظر آتا ہے۔ پاکستان کے عوام بھولے اور سادہ ہیں۔ بہت سے اس سیاسی منہ ماری کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں کہ کہیں یہ لڑائی بڑھ نہ جائے اور وفاق کے صوبوں کے ساتھ تعلقات مزید خراب نہ ہو جائیں۔
ان تمام اہالیان بھولستان سے درخواست ہے کہ اپنا خون نہ جلائیں ۔ یہ لڑائی اتنی ہی حقیقی ہے جتنی پاکستان میں جمہوریت یا کسی زمانے میں ایم کیو ایم حقیقی تھی۔ دونوں پارٹیاں اندر خانے باہمی مفادات کے طے شدہ پلان کے تحت کام کر رہی ہیں۔ حالیہ تاریخ کو یاد کر لیں پتہ چل جائے گا کہ ہر اہم سیاسی موڑ پر دونوں نے کیسے ایک دوسرے کو سہارا دے کر کھڑا رکھا۔
پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم کیسے ایک کھٹارا گاڑی میں تبدیل ہو گیا۔ دھرنوں اور احتجاج کی دھمکیاں کیسے ریت کی دیوار کی طرح ڈھ گئیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں کیا ہوا؟ اور آج کل ن لیگ کے ساتھ پیپلز پارٹی کی نوک جھونک سے کس کا فائدہ ہو رہا ہے؟ عمران خان کے لیے آصف علی زرداری جیسی اپوزیشن منتیں مانگ کر سامنے آتی ہے۔ اختلاف رکھنے والے ایسے ہوں تو دوستوں کی کیا ضرورت ہے۔ مگر یہ یکطرفہ معاملہ نہیں۔
مرکز نے بھی نباہ ٹھیک کیا ہے۔ دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ کہاں پر فریال صاحبہ کو اسپتالوں سے نکال کر تحویل میں لیا جا رہا تھا اور کہاں وہ دوبارہ سے اپنے بھائی کے ساتھ تخت سندھ کی باگ ڈور پھر سے سنبھالے ہوئے ہیں۔آزاد کشمیر میں دوسرے نمبر پر آنا کوئی حادثاتی عمل نہیں تھا۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی پالیسی کا ہی نتیجہ تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں