ہندوستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو کمزور مواصلات اور معاشی طور پرناکہ بندی کے تحت دو سال کا عرصہ بیت چکا ہے، فاشسٹ مودی حکومت بے بس کشمیریوں کے خلاف بے تحاشا مظالم جاری رکھے ہوئے ہے، مسلمانوں کو ہر طرح سے مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جبکہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کو بھی خاطر میں نہیں لایا جارہا۔
5 اگست 2019 کو بھارت نے خطے کی خودمختار حیثیت کو منسوخ کرکے یکطرفہ فیصلہ کیا اور آبادی کو تبدیل کرنے کے لیے ایک مذموم مہم شروع کی۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو اپنی مرضی کے اظہار سے روکنے، صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے، سیاستدانوں کو گھروں میں نظر بند رکھنے اور کسی بھی قسم کے احتجاج کو دبانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے۔ ہزاروں کشمیری اب بھی جیلوں میں قید ہیں کیونکہ وہ ایک جابر حکومت کے ما تحت زندگی گزار رہے ہیں جو بنیادی حقوق کی فراہمی میں بھی مکمل طور پرناکام ہے۔
پاکستان آج کے دن کو منقسم خطے کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بھارتی اقدامات کی مذمت کے طور پر منائے گا،پچھلے دو سالوں کے دوران بہت کچھ بدل گیا ہے اور پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اس مسئلے پر بات چیت کے لیے بہت زیادہ سفارتی کوششیں کی ہیں۔ پھر بھی عالمی برادری کی جانب سے بہت ہی محتاط الفاظ میں محدود مذمت کی گئی، کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا گیا، جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ ماہ نئی دہلی کا دورہ بھی کیا ہے، انہیں بھارت کو مجبور کرنا چاہیے کہ وہ ان غیر قانونی ہتھکنڈوں کو ختم کرے۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انتہا پسند ہندوتوا نظریئے نے تمام ریاستی اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور بی جے پی حکومت کا ریکارڈ اقلیتی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھرا ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کس طرح آر ایس ایس کا نظریہ کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جب تک بھارت اس نفرت سے بھرے نظریے کو نہیں چھوڑے گا، معاملات بہتری کی جانب نہیں جا سکتے۔
دو سال کے فوجی محاصرے کی تکمیل ایک سنگین سنگ میل ہے اور عالمی برادری کو کشمیر کی سنگین صورت حال کا ادراک کرنا ہوگا، مودی حکومت کوکشمیریوں پر کئے گئے مظالم کا جواب دینا ہوگا، جبکہ ہندوستان کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کو آزادی اور حق خود ارادیت دیا جائے۔