ناسا کا خلائی جہاز مریخ کی سخت چٹان ڈرل کرکے نمونے حاصل کرنے میں کامیاب

تازہ ترین

تازہ ترین

ناسا کا خلائی جہاز مریخ کی سخت چٹان توڑ کر نمونے حاصل کرنے میں کامیاب
ناسا کا خلائی جہاز مریخ کی سخت چٹان توڑ کر نمونے حاصل کرنے میں کامیاب

واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کا خلائی جہاز پرزیورینس روور مریخ کی سخت چٹان ڈرل کرکے نمونے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا جس کا مقصد سرخ سیارے پر زندگی کی تلاش ہے۔

تفصیلات کے مطابق ناسا کے پرزیورینس روور نے مریخ کی چٹان میں ڈرل کرکے مریخ کے ارضیاتی معائنے کیلئے نمونے حاصل کرلیے جنہیں زمین پر لایا جائے گا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ مریخی نمونے آج سے 3 روز قبل حاصل کیے گئے۔

ناسا کے خلائی سائنسدانوں نے پرزیورینس روور کے ہاتھوں ڈرل کی گئی چٹان کو روشیٹ کا نام دیا ہے۔ گزشتہ ماہ مریخی جہاز ایک پتھر پر ڈرل کرنے میں ناکام ہوگیا۔ روور کی طرف سے ناسا کے سائنسدانوں کو پتھر کی تصاویر ارسال کردی گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز پرزیورینس روور کا حاصل کردہ نمونہ آسانی سے زمین پر نہیں لایا جاسکتا جسے حاصل کرنے کیلئے ناسا کو ایک اور خلائی مشن درکار ہوگا جس کا خلائی جہاز اسے زمین تک لاسکے جس کیلئے 2030 تک کا عرصہ درکار ہوگا۔ 

خیال رہے کہ اِس سے قبل سائنسی ماہرین کا کہنا تھا کہ مریخ پر پائے جانے والے بلیو بیری پتھر زندگی کی علامت ہیں جن پر تحقیق سے بنی نوع انسان کا سرخ سیارے کو بسانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے۔

ماہرینِ ارضیات کا گزشتہ ماہ کہنا تھا کہ مریخ پر پائے جانے والے بلیو بیری پتھروں میں پانی کی موجودگی کے امکانات ہیں جو 19ویں صدی کے دوران زمین کے ہائیڈرو ہیمیٹائٹ نمونوں سے مشابہ ہیں۔

 ہائیڈرو ہیمیٹائٹ میں موجود ہائیڈرو آکسیل پتھروں میں ذخیرہ شدہ پانی کی علامت ہے جو مریخ کے پتھروں کی ایک قسم سمجھی جاتی ہے۔ سب سے پہلے بلیو بیری 1984 میں شناخت، جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔

مزید پڑھیں: مریخ کے بلیو بیری پتھر زندگی کی علامت ہیں۔سائنسی تحقیق

Related Posts