کابل: ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کابل میں طالبان قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران جامع حکومت کی تشکیل، پاک افغان بارڈر کی صورتحال سمیت سیکورٹی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے گزشتہ رات گلبدین حکمت یار سے بھی ملاقات کی تھی۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ جنرل فیض حامد نے گزشتہ رات حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار سے ملاقات کی۔کہا جارہا ہے کہ ایک جامع حکومت کا قیام ملاقات میں بحث کے موضوعات میں سے ایک رہا ہے۔
— افغان اردو (@AfghanUrdu) September 5, 2021
واضح رہے کہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے تھے، ان کے ساتھ ایک اعلی سطح کا وفد بھی کابل گیا ہے۔
اس موقع پر صحافی کے ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا کہنا تھا کہ فکرنہ کریں سب اچھا ہوگا۔ کابل میں پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب افغان میڈیا سروس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کابل میں سینئر طالبان قیادت کی نئے سیٹ اپ پر طویل مشاورت کی ہے۔ سینئر طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کا کہنا ہے کہ نئی افغان حکومت وسیع البنیاد ہو گی، سکیورٹی کی فراہمی اور ہر شہری کی ذمہ داری بھی اٹھائیں گے۔
طالبان کے نائب امیر اور سیاسی شعبے کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے کابل میں اہم ملاقاتیں کی ہیں
ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی سربراہی میں پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کے وفد سے ملاقاتوں کے علاوہ قطری خصوصی ایلچی مطلق بن ماجد القحطانی سے ملاقاتیں شامل ہیں pic.twitter.com/b4UaFc1ZQU— افغان اردو (@AfghanUrdu) September 4, 2021
میڈیا رپورٹس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ملا یعقوب ، شیر محمد عباس استانکزی کو اہم عہدے ملنے کا امکان ہے، طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ مملکت کے سربراہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر کھیل پنجاب کا انعام بٹ کےلیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








