وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انصاف تب ہی دیا جاسکتا ہے جب عدالتیں آزاد ہوں لیکن افسوس کہ پاکستان آزادعدلیہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ میں 2007 میں فوجی آمر کے خلاف عدلیہ کی بالادستی کی تحریک کا حصہ تھا لیکن اس کے بعد کے نتائج توقع کے مطابق نہیں آئے۔
قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ عام آدمی کی ترقی اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری آئے۔ملک میں زوال کی وجہ جزوی طور پر قانون کی حکمرانی کی عدم موجودگی اور غریبوں اور اشرافیہ کے لیے انصاف کے دوہرے معیارات ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح بااثر طبقات نے انصاف سے بچنے کے لیے قانون کا غلط استعمال کیا اورکمزور طبقات کا استحصال کیاگیا۔
یہاں تک کہ حکومت کی طرف سے بہت زیادہ احتسابی مہم کے دوران ہم نے کسی بھی اہم شخصیت کو سزا ملتے نہیں دیکھاجس کی وجہ سے سیاسی انتقام کے الزامات اور ریاستی اداروں پر تنقید کیلئے راستہ ملتا ہے۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ماضی میں اشرافیہ کو دی گئی معافی نے احتساب کے دعوؤں کی نفی کی۔
قانون کی حکمرانی کی عدم موجودگی کی وجہ عدالتی اصلاحات شروع کرنے میں حکومت کی ناکامی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ارکان کے ساتھ ایک حالیہ ملاقات میں وزیر اعظم نے کہا تھاکہ حکومت مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے سول اور فوجداری قوانین میں اصلاحات کے لیے پرعزم ہے لیکن قانونی برادری بھی اصلاحات کے ایجنڈے سے مطمئن نہیں ہے جبکہ سنیارٹی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ججوں کی تقرری نے بھی شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔
پاکستان میں قوانین اور طریقہ کار کمزور ، قدیم اور غیر موثر ہیں تاہم کئی بار ان میں ترمیم کی گئی ہے، کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن بنیادی مسئلہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر میں ہے۔عدالتی نظام پیچیدہ طریقہ کار ، بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور قانونی امداد کی کمی میں الجھا ہوا ہے جس نے حکمرانی اور قوم کی خوشحالی کو کمزور کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی اصلاحات پروگرام شروع کرنے کے عزم کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔پی ٹی آئی حکومت نے اپنی مدت کے تین سال مکمل کر لیے ہیں لیکن اصلاحات کا عمل ایک مشکل کام ہے۔
بہر حال یہ انتہائی ضروری ہے کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر عدالتی اصلاحات کا عمل یقینی بنائے تاکہ مکمل میں انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کا خواب پورا ہوسکے۔