طالبان کی گزشتہ 20 سالوں کی جدوجہد ایک طرف تو کامیابی کی نوید سناتی ہے اور دوسری طرف یہی کامیابی طالبان کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج پیش کرتی ہے جو حکمرانی ہے۔
طالبان کو معیشت کا پہیہ جام ہونے اور عدم استحکام سے بچنے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ موجودہ معاشی عدم استحکام کی وجہ سے انسانی المیہ جنم نہ لے، طالبان کیلئے سب سے بڑے خطرات میں شامل معاشی استحکام ایک بڑا چیلنج ہے اور افغانستان میں موجود دہشت گردگروپس یعنی القاعدہ اور داعش خراسان بھی طالبان حکومت کیلئے بڑی مشکلات کا سبب ہے۔
جہاں تک کامیابیوں کا تعلق ہے تو صوبہ پنج شیر کا کنٹرول سنبھالنا طالبان کی بڑی کامیابی ہے اور اس کامیابی کے بعد افغانستان میں کچھ جلوس اورمظاہرے شروع ہوگئے ہیں جو کہ تاجکستان فرار ہونیوالے احمد مسعودکی ایماء پر ہورہے ہیں ۔
کابل میں پاکستان کے سفارتخانے کے باہر ہونے والے مظاہرے بھی احمد مسعود کے کہنے پر ہوئے جن میں پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے جو اس بات کی غمازی ہے کہ افغانستان میں غیر پشتون یا گزشتہ حکومت کے چہیتے لوگ را کے ایجنٹس کے ساتھ ملکر پاکستان کو بدنام کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ۔ان کا مقصد یہ ہے کہ اقوام عالم میں پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔
ایران نے بھی پاکستان پر کچھ سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ایران کاکہنا ہے کہ پنج شیر میں بیرونی مداخلت ہوئی ہے جس کی تحقیقات کروائی جائے۔ اس تمام تر صورتحال میں 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ ہوگی۔
اس میں گوکہ ایجنڈا افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی تجدید کرنا ہے اور طالبان پر سفری پابندیوں پر نظر ثانی کی جائے گی لیکن اس وقت حالات کے پیش نظر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل میں پاکستان پر لگائے جانیوالے الزامات کا احاطہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
بھارت پاکستان پر افغان طالبان کی عسکری حمایت اور مدد کے الزامات عائد کرتا رہا ہے اور اب بھارت کی کوشش ہے کہ پروپیگنڈا کرکے عالمی برادری کو پاکستان کیخلاف اکسایا جائے ،جیسا کہ ایران نے بھی اپنے سرکاری اعلامیہ میں پاکستان پرالزامات عائد کئے ہیں۔
تو ان تمام چیزوں کے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کو بھی چاہیے کہ منفی پروپیگنڈا کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے اپنا نقطہ نظر دنیا کے سامنے پیش کرے۔
افغانستان میں جہاں دیگر مسائل درپیش ہیں وہیں ایک اہم مسئلہ خوراک کی فراہمی ہے کیونکہ اس وقت افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی کو خوراک اور دیگر اشیاء کی ضرورت ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی دنیا سے اپیل کی ہے کہ افغانستان کو مدد فراہم کی جائے تاکہ وہاں کوئی انسانی المیہ جنم نہ لے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا کی طرف سے جیک سولیوان نے بھی طالبان کو مالی امداد دینے کا عندیہ دیا ہے، خاص طور پر طالبان کے ساڑھے نو ارب ڈالر منجمد ہونے کی وجہ سے اگر طالبان کو مدد چاہیے تو امریکا کے فنانشل سسٹم، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں اور ممالک سے مدد چاہیے تو طالبان کو دوحہ معاہدے میں کئے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری کرنا ہوگی اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہ ہو اورطالبان حکومت عورتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے ۔
آنیوالے دنوں میں طالبان کیلئے مواقع اور چیلنجز ایک ساتھ بڑھ رہے ہیں اور یقیناً اگر عالمی برادری نے طالبان حکومت کی مدد نہ کی تو طالبان کے پاس اپنی معیشت کو سہارا دینے کیلئے منشیات کا کاروبار یا اسمگلنگ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا اور ایسے میں افغانستان میں موجود دیگرعسکری گروہوں کو مضبوط ہونے کا موقع مل جائیگا۔
افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کیلئے بھی مشکلات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان الزامات کا سامنا کرنے اور مشکلات سے نمٹنے کیلئے اہداف کا دوبارہ تعین کرے۔پاکستان کو انتہائی سنبھل کر آگے بڑھنا ہوگا اور دنیا بھر میں پاکستانی سفیروں بالخصوص امریکا اور اقوام متحدہ میں مستقل نمائندوں کو مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔