بھارتی جارحیت اور اقوام عالم

تازہ ترین

تازہ ترین

 رواں ماہ 12ستمبر کو پاکستان نے 131صفحات پر محیط ایک ڈوزیئر اقوام متحدہ میں جمع کروایا ہے اور اس ڈوزیئر میں تقریباً وہ تمام شواہد موجود ہیں جو بھارت کو جنگی جرائم کا مرتکب ثابت کرسکتے ہیں اور پاکستان نے بھی ڈوزیئر میں اقوام عالم کو یہ باور کروایا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جتنے ظلم و ستم کررہا ہے وہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور ان جنگی جرائم پر بھارت پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔

پاکستان نے اپنے ڈوزیئر میں 3 نکات پر زیادہ زور دیا ہے یعنی ماضی قریب میں مقبول حریت رہنماء سید علی گیلانی کے انتقال کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی ایک نئی مثال قائم کی ۔

پاکستان نے اپنے ڈوزیئر میں مقبوضہ وادی میں 5 اگست 2019ء سے بھارت کی طرف سے جاری غیر انسانی محاصرے ، ذرائع مواصلات کی بندش اور بنیادی انسانی وسائل تک رسائی کے ذرائع مسدود کرنے پر دنیا کی توجہ مرکوز کروائی ہے اور اسی ڈوزیئر میں اجتماعی قتل و غارت کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

پاکستان نے اپنے ڈوزیئر میں اقوام عالم کو یہ عندیہ دیدیا ہے کہ بھارت اپنے مختلف کیمپوں میں دہشت گرد تنظیم داعش کے گروہوں کو تربیت دے رہا ہے اور بھارت کی کوشش ہے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو کسی بھی طرح حق خود ارادیت کے بجائے دہشت گردی ثابت کرے اور اس مقصد کے حصول کیلئے بھارت کشمیر سمیت دیگر جگہوں پر داعش کا استعمال کرسکتا ہے ، اس طرح پاکستان نے اپنے ڈوزیئر میں بھارت اور داعش کا گٹھ جوڑ دنیا کے سامنے بے نقاب کرکے مستحسن اقدام اٹھایا ہے۔

پاکستان نے اپنے ڈوزیئر میں بیشتر وہ نکات و شواہد شامل کئے ہیں جن کا ذکر انسانی حقوق کمشنر اپنی رپورٹس میں نہایت تفصیل سے کرچکے ہیں۔ انسانی حقوق کمشنر کی رپورٹ میں قتل و غارت گری،عصمت دری، عقوبت خانوں، پیلٹ گنز کا استعمال اور بچوں کو قید کرنے سمیت دیگر جرائم کے شواہد بھی موجود ہیں۔

پاکستان نے اقوام متحدہ سے جو مطالبات کئے ہیں ان میں کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ظلم و بربریت کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ بھی شامل ہے اور سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے دیگر جگہوں سے لوگوں کو کشمیرمیں لاکربسایا جارہا ہے ۔پاکستان کی طرف سے سامنے آنے والے مطالبات میں کشمیریوں کی نسل کشی، فوجی آپریشن اور انٹرنیٹ کی بندش ختم کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔

حکومت پاکستان نے بھارت کے مظالم اور غیر انسانی رویئے کو دنیا کے سامنے پیش کرکے ایک بہترین اقدام اٹھایا ہے لیکن اب اس ڈوزیئر کے مقصد کے حصول کیلئے پاکستان کو دنیا بھر میں قائم اپنے سفارتخانوں کو بہت زیادہ متحرک کرنا ہوگا۔گوکہ دفتر خارجہ کی طرف سے تمام سفراء کو اس ڈوزیئر کی ایک کاپی ارسال کی جارہی ہے لیکن ذمہ داری یہاں پوری نہیں ہوجاتی بلکہ تمام سفراء سے یومیہ بنیادوں پر رپورٹ لی جائے کہ انہوں نے متعلقہ ممالک کے میڈیا، تعلیمی اداروں اور عوام میں اپنا پیغام کس انداز سے پہنچایا اور اس کا کیا اثرہوا تاکہ اقوام کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے سلامتی کونسل سے بہتر نتائج کی توقع کی جاسکے۔

یوں تو پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں کئی ڈوزیئر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پیش کئے ہیں لیکن ان ڈوزیئر کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔پاکستان کو بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنے کیلئے سب سے زیادہ قانونی سفارت کاری پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کےآرٹیکل 99 کے مطابق جب تک سیکریٹری جنرل ڈوزیئر سلامتی کونسل کے حوالے نہ کرے تب تک سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب نہیں کیا جاسکتا۔

حکومت کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اس ڈوزیئر کو قانونی سفارت کاری کے تحت سلامتی کونسل تک پہنچایا جائے اور جنرل اسمبلی میں پہنچا کر وہاں اس پر قرارداد پاس کروائی جائے اور ساتھ ساتھ او آئی سی پر بھی دباؤ بڑھایا جائے ۔ او آئی سی 57 ممالک کے بلاک کی حیثیت سے ڈوزئیر کو اقوامِ متحدہ میں اٹھائے۔ اس ڈوزئیر کا وزن اور اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جس جنگی جرم کا ذکر کیا گیا ہے، وہ عالمی قانون کے زمرے میں آتا ہے۔ جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کے تحت کسی بھی متنازعہ علاقے کا جغرافیائی تناسب تبدیل کرنا جرم ہے۔

کشمیر میں ہونے والے ظلم و بربریت پر آرٹیکل 8 کے تحت عالمی کریمنل عدالت میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر ڈوزئیر میں ہیومن رائٹس کمیشن کا ذکر ہے۔بتایا گیا ہے کہ بہت زیادہ قتل و غارت ہورہی ہے۔ لوگوں کو اندھا کیا جارہا ہے۔ اجتماعی قبریں برآمد ہورہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی اپنی رپورٹ میں لوگوں کو اندھا کرنے کا اعتراف موجود ہے۔ اگر دنیا میں کسی بھی جگہ پیلٹ گنزکا سب سے زیادہ استعمال ہے تو وہ بھارت ہے جہاں 13لاکھ پیلٹ فائر کیے گئے ہیں۔

ان تمام چیزوں کا اعادہ کیا جائے تو بھارت کا ظلم و بربریت بے نقاب کی جاسکتی ہے لیکن ڈوزئیر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو دے دیا جاتا ہے جس سے عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ جنرل اسمبلی اور سیکورٹی کونسل میں ان معاملات پر بحث نہیں ہوتی اور معاملات جوں کے توں رہتے ہیں۔ اِس بار امید ہے کہ پاکستان جنرل اسمبلی اور سیکورٹی کونسل میں بھی یہ معاملات اٹھائے گا تاکہ کشمیریوں کی داد رسی ہوسکے۔

Related Posts