واٹر بورڈ کے جونیئر افسر نے سرکاری ہائیڈرنٹ بند کرواکر عدالت کو چیلنج کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Junior KWSB officer illegally shuts down govt's water hydrant

کراچی : واٹر بورڈ کی جانب سے شہر میں قائم 6 سرکاری ہائیڈرنٹس میں سے ایک لانڈھی ہائیڈرنٹ کو پھر سے انتقام کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

6ماہ قبل بھی لانڈھی ،کورنگی اور ڈیفنس و کلفٹن کے رہائشیوں کے لئے قائم سرکاری ہائیڈرنٹ کا غیر قانونی طور پرہٹانے کے لئے کوششیں کی گئی تھیں جس کے در پردہ مقاصد سامنے آنے کی صورت میں ایم ایس طارق اینڈ کو کی جانب سے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت کی جانب سے عوامی مفاد میں قائم سرکاری ہائیڈرنٹ کو کسی کی ایما پر ہٹائے جانے کے خلاف حکم امتناع جاری کیا گیا تھا۔

 تاہم لانڈھی فیوچر کالونی ہائیڈرنٹ کو بدستور 18 گھنٹے چلایا جارہا ہے جب کہ واٹر بورڈ کے دو سرکاری ہائیڈرنٹ سید ناصر حسین شاہ کے چہیتے ٹھیکیداروں کے پاس ہونے کے وجہ سے انہیں 24 گھنٹے براہ راست لائن سے بغیر بجلی کے پانی لیا جارہا ہے جب کی ایک ہائیڈرنٹ پر خلاف ضابطہ طور پر اضافی نل بھی لگا کر دیئے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:کراچی میں پانی کے ٹینکر کی بکنگ و مسائل کے حل کیلئے آن لائن اپیلی کیشن کا افتتاح

حیرت انگیز طورپر بلک سسٹم کے متعلقہ انچارج عرفان اللہ خان نے فیوچر کالونی ہائیڈرنٹ کی انتظامیہ کو ہائیڈرنٹ بند کرنے کا حکم دیا جب کہ نمائندے کی جانب سے جب عرفان اللہ خان سے سوال کیا گیا کہ وہ کس کے حکم پر ہائیڈرنٹ کو بند کرانے گئے تھے جس پر ان کا کہنا تھا کہ میرا اے ای ای آج نہیں تھا جس کی وجہ سے میں اپنے لائن سے سسٹم کو دیکھنے گیا تھا اور میں نے ہائیڈرنٹ بند کرنے کا نہیں کہا۔

عرفان اللہ خان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ہائیڈرنٹ دوپہر11سے شام 5 بجے تک بند رہنا چاہئے تھا اس لئے میں دیکھنے گیا تھا کہ وہ بند ہے کہ نہیں ۔عرفان اللہ خان کا کہنا تھا کہ باقی میں نہیں بتاؤں گا کہ کس نے مجھے ہائیڈرنٹ بند کرنے کا کہا تھا۔

واضح رہے کہ مذکورہ ہائیڈرنٹ کو بند کرنے سے لانڈھی ،کورنگی ،کلفٹن ، ڈیفنس ، باتھ آئی لینڈ ، پی آئی ڈی سی، محمود آباد ، اختر کالونی سمیت متعلقہ علاقوں میں پانی کا بحران پید اہو جائے گا ۔صبح سےہائیڈرنٹ بندرہنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامناتھا ۔معلوم ہوا ہے کہ ہائیڈرنٹ کے مالکان کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ وہ جلد از جلد اس ہائیڈرنٹ کو این ای کے پر شفٹ کریں۔

اس حوالے سے ہائیڈرنٹ کی انتظامیہ کے اہم ذمہ دار نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ میں نے آنے والے افسر کو کہا ہے کہ وہ زبانی حکم نہ دیں بلکہ تحریری طور پر لکھ کر دیں تاکہ ہم عدالت میں جمع کرا سکیں کیوں کہ ایک افسر کے خلاف توہین عدالت اور مذکورہ ہائیڈرنٹ پر حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے۔

اس حوالے سے ہائیڈرنٹ انچارج اللہ مہر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مجھے اوپر سے آرڈر سے کہ یہ ہائیڈرنٹ بند کرانا ہے ، سوال کے جواب میں نعمت اللہ مہر کا کہنا تھا کہ ہم اس کو این ای کے کہنے پر شفٹ کر رہےہیں اور اس کے لئے ایک روز بعد ایم ڈی واٹر بورڈ باقاعدہ لیٹر جاری کر دیں گے ۔

اس ہائیڈرنٹ کو ٹھیکے میں اس جگہ کیوں دیا تھا اور اب اگر اس کو شفٹ کریں گے تو کئی میل دور سے لانڈھی کورنگی کے مکینوں کو ٹینکر کس ریٹ پر دیں گے ؟ اس کی شفٹنگ پر آنے والے اخراجات کا ذمہ دار کون ہو گا ؟ اور عدالت میں زیر سماعت کیس اور حکم امتناع پر توہین عدالت کا سامنے کون کرے گا ، اس تمام سوالوں کے جواب دینے سے نعمت اللہ مہر قاصر رہے ۔ تاہم نعمت اللہ مہر نے انکشاف کیا کہ سلیم بلوچ نامی ایم پی اے نے کہا ہے کہ اس ہائیڈرنٹ کو اس جگہ کسی بھی صورت نہیں ہونا اس لئے اس کو یہاں سے ہٹا رہے ہیں ۔

Related Posts