فیصل آباد:وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ شریفوں نے صرف اپنے اثاثے بنائے، ملک کو کنگال اور مقروض کردیا،اثاثوں اور دولت آنے کا سورس پوچھا جائے تو جواب دینے کی بجائے گالم گلوچ اور دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔
نواز شریف اور شہباز شریف کو این آر او نہیں ملے گا،جہاں اختیار ہوگا وہاں احتساب بھی ہوگا،عمران خان شریفوں و زرداریوں کے برعکس کروڑوں روپے کے سرکاری خرچ سے کوئی کیمپ آفس نہیں بنایا، دن رات عوام کو ریلیف دینے کیلئے کام کررہے ہیں۔
کامیاب جوان پروگرام کے بعد کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 5 لاکھ روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا علاقہ دوسرے علاقوں کی نسبت پسماندہ ہے اور یہاں محدود وسائل والے لوگ رہتے ہیں لہٰذا ہماری کوشش ہے کہ یہاں کے لوگوں کو تمام ممکن ریلیف دیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ یہاں نئے یوٹیلیٹی سٹور کا قیام اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبل ازیں بینک بڑی بڑی پارٹیوں، ملوں، فیکٹریوں اور صنعتکاروں و کاروباری افراد کو ہی قرضے دیتے تھے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بینکوں کو آمادہ کیا ہے کہ وہ عام افراد اور بے وسائل جوانوں کو بھی قرضے فراہم کریں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے مسائل کا بخوبی علم ہے اسی لئے تمام شہریوں کو ہیلتھ کارڈ ز کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور انشاللہ رواں سال دسمبر کے آخر تک پنجاب کے ہر گھرانے کو صحت سہولت کارڈ فراہم کردیا جا ئے گا جس سے وہ سالانہ10 لاکھ روپے تک اپنا اور اپنے اہلخانہ کا پسند کے ڈاکٹر سے پسند کے ہسپتال میں علاج کرواسکیں گے۔
فرخ حبیب نے کہا کہ یہی ریاست مدینہ کا وہ تصور ہے جس کی بات وزیراعظم عمران خان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے ذاتی مفادات کیلئے کمیشن کے چکروں میں بجلی کے مہنگے کارخانے لگوائے مگر ٹرانسمشن سسٹم میں بہتری کیلئے کوئی کام نہ کیا اس طرح اب ہم بجلی استعمال کریں یا نہ کریں ہم نے ہر سال 1500 ارب روپیہ ادا کرنا ہے۔
لیکن اس کے برعکس وزیراعظم عمران خان نے عوام کا احساس کرتے ہوئے سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے شمسی توانائی اور ہائیڈل بجلی کے منصوبے شروع کئے جبکہ اس سلسلہ میں 10 ڈیم بنائے جارہے ہیں جن کی تکمیل سے جہاں 10 ہزار میگا واٹ سستی بجلی پیدا ہوگی وہیں ایک کروڑ 30 لاکھ ایکڑ رقبہ کو سیراب کرنے کیلئے پانی بھی ذخیرہ کیا جاسکے گا۔
وزیر مملکت اطلاعات نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام موجودہ حکومت کا اہم کارنامہ ہے کیونکہ ہمارے ملک میں بہت بڑی تعداد میں ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے پاس ہنر، صلاحیت اور اچھوتے کاروباری آئیڈیاز تو تھے مگر سرمایہ نہیں تھا لہٰذا حکومت نے انہیں قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا تاکہ وہ اپنے کاروبار شروع کرکے ملازمتوں کیلئے دھکے کھانے کی بجائے خود دوسروں کو ملازمتیں فراہم کرنے کے قابل ہوسکیں۔