نیب قوانین میں تبدیلیاں

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم کی جانب سے چیئرمین نیب کی تقرری پر اپوزیشن لیڈر سے مشورہ کرنے سے انکار پر ایک نیا تنازعہ جنم لے چکا ہے جس کی وجہ سے حکومت کو ایک بار پھر اپوزیشن سے بات کرنے کے بجائے چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع کے لیے صدارتی آرڈیننس پر انحصار کرنا پڑا۔صدرمملکت جو کہ فیڈریشن کی علامت سمجھے جاتے ہیں،ان کو اب نیب کا سربراہ مقرر کرنے میں بڑا کردار دے دیا گیا ہے۔

قومی احتساب آرڈیننس 2021 میں ترمیم کے مطابق موجودہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے چیئرمین نیب کا تقرر کرے گا۔ اتفاق رائے تک پہنچنے میں ناکامی کی صورت میں اس معاملے کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے گی جبکہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی آڑ میں حکومت نے احتساب قوانین میں بھی کئی دیگر ترامیم کی ہیں۔

آرڈیننس کے مطابق صدر کو اختیار ہوگاکہ وہ ضرورت کے مطابق جتنی بھی احتساب عدالتیں قائم کریں تاہم نیب قوانین وفاقی، صوبائی اور مقامی ٹیکس سے متعلق معاملات تک نہیں بڑھیں گے۔

سب سے متنازعہ تبدیلی یہ ہے کہ نیب کا غیر سرکاری افراد پر کوئی دائرہ اختیار نہیں ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوروکریسی کے علاوہ کرپشن کے مقدمات میں ملوث افراد کی چھان بین نہیں کی جائے گی۔ تاہم حکومت نے رضاکارانہ رقوم کی واپسی اور پلی بارگین سے متعلق خامیاں دور کرلی ہیں اورایسے افراد اپنی خدمات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دس سال کے لیے نااہل ہو جائیں گے۔

یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ حکومت نے نیب کو مضبوط کرنے کے بجائے اس کے پروں کو تراش یا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کا کردار بڑھا دیا گیا ہے جبکہ ملزمان احتساب عدالتوں سے ضمانت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی بینک یا مالیاتی ادارہ کوئی فیصلہ لیتا ہے تو نیب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی پیشگی منظوری تک کارروائی نہیں کر سکتا۔

وفاقی کابینہ، مشترکہ مفادات کونسل اور آئینی اداروں کے فیصلے بھی نیب کے اختیار سے باہر ہوں گے۔حکومت نے نیب کے چیئرمین کی تقرری اور احتساب کے قوانین میں ترامیم کے ساتھ چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کردیا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ موجودہ حکومت پارلیمنٹ میں ترامیم پر بحث کرنے کی بجائے آرڈیننس پر انحصار کررہی ہے۔

اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتساب کا عمل یقینی بنائے کیلئے اقدامات اٹھائے اور نیب کو مضبوط کیا جائے تاکہ کرپشن کے مقدمات اپنے منطقی نتائج تک پہنچ سکیں۔

Related Posts