وہی ہوا جو کئی بار پہلے بھی دیکھنا نصیب ہوا۔ ایک بار پھر کسی کو اچانک یہ احساس ہوگیا کہ وزیر اعظم کی بھی کوئی عزت و توقیر ہوتی ہے۔ کوئی سربستہ راز نہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی وزارت عظمیٰ ایک ڈیل کا نتیجہ تھی۔
ایسی ڈیل جس میں وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ تک جنرل ضیاء کے قبول کرنے پڑے تھے۔ تب وہ اسمبلی میں تشریف لاتیں تو نون لیگ وزارت عظمی کے منصب کا احترام تو کجا خواتین کے لئے طے شدہ مشرقی روایات کی بھی دھجیاں اڑا دیتی۔
اس زمانے میں شیخ رشید نواز شریف کے ٹائیگر ہوا کرتے تھے۔ وہ محترمہ پر وہ وہ جملے کستے کہ پریس گیلری میں بیٹھے صحافی اور وزیٹرز گیلری میں بیٹھے مہمان تک ایک دوسرے کی شکلیں تکنے لگتے۔ ایک بار محترمہ زرد رنگ کا لباس پہنے اسمبلی اجلاس میں تشریف لائیں تو شیخ رشید احمد نے ان پر ”یلوکیب” کا آوازہ کس دیا۔ اور پھر رفتہ رفتہ اسے معمول ہی بنا لیا۔
تب نواز شریف خود پنجاب میں وزیر اعلی تھے سو خود قومی اسمبلی میں نہ تھے مگر جو کچھ وہاں ہوتا رہا اس کا تسلسل یہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھا کہ اس حکمت عملی کے پیچھے وہ بذات خود موجود تھے۔پھر یوں ہوا کہ ایک روز محترمہ کی حکومت رخصت کردی گئی۔ اور کچھ روز میں میاں نواز شریف نے وزارت عظمی کا حلف اٹھا لیا۔ یہ ان کی پہلی باری تھی جو انہوں نے ایک ”سلیکٹڈ” کی حیثیت سے ہی حاصل کی تھی۔
اب محترمہ بینظیر بھٹو اپوزیشن میں تھیں۔ وہ نواز شریف کے لئے خود کوئی گھٹیا الفاظ استعمال کرتیں اور نہ ہی اپنی موجودگی میں اپنی پارٹی کے کسی اور رکن کو کرنے دیتیں۔ مگر ان کی وزارت عظمی کو وہ دھاندلی کا نتیجہ قرار دے کر نواز شریف کے منصب کو تحقیر کا نشانہ ضرور بناتی تھیں۔
اس باب میں تو محترمہ کا ٹریک ریکارڈ یہ رہا ہے کہ اپنے دوسری حکومت کے خاتمے کے بعد کے دور میں وہ ایک سے زائد مرتبہ یہ فرما چکی تھیں کہ جنرل ضیاء کے بعد ملک میں دو بار ہی جمہوری دور آیا۔ حیرت ہوتی تھی کہ نواز شریف کے جن دو ادوار کو وہ سرے سے جمہوریت ہی تسلیم نہیں کرتی تھیں۔ ان ادوار میں خود اسمبلی کا حصہ پھر کیوں رہیں؟ کیا وہ دو غیر جمہوری اسمبلیوں کا بھی حصہ بنی تھیں؟
اپنے پہلے دور حکومت کے آخری ایام میں نواز شریف کو بھی اچانک یہ احساس ہو چلا تھا کہ وزیر اعظم کے منصب کی بھی کوئی عزت و توقیر ہوتی ہے۔ یہ احساس ہوتے ہی انہوں نے ان کے ساتھ پھڈا مول لے لیا جن کے کاندھوں پر بیٹھ کر اس منصب تک پہنچے تھے۔ ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں؟ کا محاورہ ویسے ہی تخلیق نہیں ہوگیا۔ اپنی بلی کی نخوت بھری میاؤں سب کو گراں گزرتی ہے۔ اور پھر بلی بھی وہ جس کی پرورش 14 برس تک کی گئی ہو۔ سو نتیجہ وہی نکلا جو اس قسم کی صورتحال کا نکلا کرتا ہے۔
90 کی دہائی کی وہ سیاست مسلسل تصادم کی سیاست تھی۔ ایک جانب محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف ایک دوسرے کو بے توقیر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے، تو دوسری جانب ان دونوں ہی کی اسٹیبلیشمنٹ سے ٹسل بھی مستقل جاری رہی۔
دونوں ہی نے دوسری باری اس وعدے کے ساتھ حاصل کی تھی کہ ”آئندہ گڑبڑ نہ ہوگی” مگر دونوں ہی کو اپنی اپنی دوسری باری کے آخری ایام میں ایک بار پھر اچانک یہ خیال آیا کہ وزیر اعظم کے منصب کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے۔
سو دوسری باریوں کا انجام بھی وہی ہوا جو پہلی باریوں کا ہوا تھا۔ اور دونوں ہی بار بلکہ چاروں ہی بار ایسا کرنا اسٹیبلیشمنٹ کے لئے اس لئے بھی آسان رہا کہ اسے پتہ تھا کہ حزب اختلاف اس کے اس اقدام پر بھنگڑے ڈالے گی۔ اور یہ بھنگڑے ہر بار ڈالے بھی گئے۔ جمہوریت کے چیمپینوں نے صرف بھنگڑے ہی نہیں ڈالے بلکہ مٹھائیاں بھی بانٹیں۔
جب حکمران جماعت اسٹیبلیشمنٹ کا نشانہ بنے اور پوری اپوزیشن اس پر مٹھائیاں بانٹ کر بھنگڑے ڈالے تو اسٹیبلیشمنٹ کو کس بات کا خوف؟ اسٹیبلیشمنٹ پر تو ایسے ماحول میں ان نام نہاد جمہوریوں سے اظہار تشکر واجب ہوجاتا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ اظہار تشکر فرمایا بھی گیا یا نہیں؟ اگر نہیں، تو بلا شبہ ناقدری ہی کی گئی ہے، جس کی اب تلافی بھی ممکن نہیں۔
نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کا خاتمہ اکتوبر 1999 میں ہوا تھا۔ لیکن محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو اس نتیجے پر پہنچنے میں اس کے بعد بھی تقریباً سات سال لگ گئے تھے کہ ہم تو دونوں اسٹیبلیشمنٹ کی ضرورت پوری کرتے رہے ہیں۔ ہم نے تو جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے چکر میں اسٹیبلیشمنٹ کے ہاتھ ہی مضبوط کئے ہیں۔
ہمارے ان باہمی جھگڑوں کا واحد بینفشری تو اسٹیبلیشمنٹ رہی ہے۔ چنانچہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا مرحلہ طے کیا گیا مگر تب تک دیر بہت ہوچکی تھی۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو سپورٹ فراہم کرکے جمہوریت کو مضبوط کرنے کا قصد کیا تو ان میں سے ایک نہ رہا۔ یوں دو بڑی جماعتوں کی اجتماعی قوت کو جمہوریت کے مفاد میں استعمال کرنے کے عزم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
محترمہ کے منظر سے ہٹنے کا نتیجہ ہولناک نکلنے کا اندازہ تو اسی سے ہو گیا تھا کہ محترمہ کی شہادت بھی پیپلز پارٹی کو تیسرے دور کے لئے مضبوط مینڈیٹ فراہم نہ کرسکی۔ خاص طور پر پنجاب کے عوام کی جو وابستگی محترمہ بینظیر بھٹو سے تھی وہ آصف علی زرداری کو منتقل نہ ہوسکی۔ اس دور حکومت میں پہلی بار پیپلزپارٹی سے دو پنجابی وزیر اعظم بھی آئے مگر یہ چیز بھی پنجاب میں ہونے والے نقصان کا ازالہ نہ کرسکی۔
اس عرصے میں یوسف رضاء گیلانی کو نواز شریف کی جانب سے دو بار ٹف ٹائم ملا۔ اور دونوں ہی بار نواز شریف اسٹیبلیشمنٹ کے ہی کھیل کا حصہ بنے۔ ایک موقع عدلیہ بحالی تحریک تھا جبکہ دوسرا میموگیٹ سکینڈل۔ ہاں، یہ احسان وہ ضرور جتلاتے رہے ہیں کہ ہم نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کی کوشش نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت بیشک نہیں گرائی مگر اسٹیبلیشمنٹ کا ساتھ تو دیا۔
اس کا یہ احساس تو ختم کیا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی سے اسٹیبلیشمنٹ کی صحت پر بھی کوئی فرق پڑ سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جب خود اقتدار میں آئے تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو چپ چاپ اسٹیبلیشمنٹ کا ہدف بننے دیا اور وہ بھی یوں کہ خود ان کی وزارت داخلہ ہی اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتی رہی۔ اس عرصے میں سندھ رینجرز نے جو کچھ کیا وہ کوئی بہت پرانی بات تو نہیں کہ یاد دلانی پڑے۔
لیکن جب اسی اسٹیبلیشمنٹ نے خود نواز شریف کا بھی رخ کرلیا تو اچانک جذبات تبدیل ہوگئے۔ اچانک یاد آگیا کہ یہ تو جمہوریت سے کھلواڑ ہو رہا ہے۔ جب تک یہ کھلواڑ صرف سندھ میں چلتا رہا تب تک سب ٹھیک تھا۔ خود نشانے پر آئے تو جمہوریت کی روح یاد آگئی۔سو نتیجہ بھی پھر وہی نکلا جو اسٹیبلیشمنٹ کا ساتھ دینے کا نکل سکتا تھا۔ اسٹیبلیشمنٹ کے جو ہاتھ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی تین بار مضبوط کئے تھے وہی ہاتھ ان کے تیسرے دور کے خاتمے کا ذریعہ بنے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاناما سکینڈل جیسے عتاب کا نتیجہ بننے کے بعد بھی کچھ نہ سیکھا گیا۔ اب ایک اور سلیکٹڈ وزیر اعظم کو بھی اقتدار کے تیسرے سال اچانک یہ یاد آگیا ہے کہ وزیر اعظم کے منصب کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے تو اس کا ساتھ دینے کی بجائے خاکی رنگ کے کپڑے زیب تن کرکے اسٹیبلیشمنٹ کو محبت بھرے سگنلز دئے جا رہے ہیں۔
خاکی رنگ کے لباس والی مریم نواز کا تو خیر سے سوشل میڈیا پر پورا بریگیڈ بھی ہے۔ وہ بریگیڈ بھی آج کل بغلیں بجا بجا کر نوید سنا رہا ہے کہ خان کی حکومت اب کسی صورت نہیں بچ سکتی۔ اب تو یہ جائے ہی جائے۔ مقام چلو بھر پانی والا ہے کہ یہ بات وہ کر رہے ہیں جو اپنے دم پر پاکستان کی تاریخ کی اس سب سے غیر مقبول حکومت کی ایک اینٹ بھی نہ ہلاسکے۔
یہ سوشل میڈیا والے مسخرے بڑے تواتر کے ساتھ ہمیں یہ بتاتے رہے کہ ”پہلی بار پنجاب جاگ گیا ہے۔ اب تو ووٹ کی عزت ہوکر رہے گی” اور حالت یہ ہے کہ حکومت جانے کا امکان پنجاب کے جاگنے کا نتیجہ نہیں بلکہ خان کے جاگنے کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔ کیا اس موقع پر ان کا موقف یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کہ عمران حکومت کے خاتمے میں بھی اسٹیبلیشمنٹ کا کردار قبول نہ ہوگا؟ اگر اب بھی ایک حکومت کا خاتمہ اسٹیبلیشمنٹ نے ہی کرنا ہے تو پھر وہ پنجاب کہاں گیا جو جاگ گیا تھا؟
اسے چاٹی کی لسی پلا کر پھر سے سلادیاہے یا وہ سرے سے جاگا ہی نہ تھا؟جاگے ہوئے پنجاب کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ کو ہی امید بھری نظروں سے کیوں دیکھا جانے لگا ہے؟ آپ نے تو پیشنگوئی کی تھی کہ ایک دن خان کو بھی ووٹ کی عزت کے لئے ہمارے ٹرک پر آنا پڑے گا۔ وہ پیشنگوئی بھول کیوں گئی؟ بلاتے کیوں نہیں خان کو اپنے ٹرک پر؟
ایسے میں مجھ جیسا شخص جو 2014ء سے پورے تسلسل کے ساتھ نواز شریف کا دفاع کرتا آیا ہے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اگر اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی یہ اسٹیبلیشمنٹ کے ہی ہاتھوں ایک اور حکومت کے خاتمے کے منتظر ہیں، اور اس کی سیاست میں اگلی مداخلت کو اس حد تک قبول کر رہے ہیں کہ اس سے اپنے خاکی لباس کے ذریعے اظہار یکجہتی بھی کر رہے ہیں۔
تو پھر ہم بھی سیاسی معاملات میں ان کی بجائے سیدھا سیدھا اسٹیبلیشمنٹ کا ہی ساتھ دینا کیوں نہ شروع کردیں؟ہم کیوں ان کے لئے اس ہاتھی سے پنگے لیں جس سے بالآخر یہ سمجھوتہ ہی کر لیتے ہیں؟ آخر ہم کیوں سیاستدان نامی دوغلے مدعیوں کے چست گواہ بنیں؟