وزیراعظم عمران خان کی حکومت بلاشبہ ایک سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہے جس کے لیے اسٹریٹجک فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہو گئے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی جا سکے اور تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پایاجاسکے۔
اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی ایف کی قیادت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکال رہی ہے۔ پی پی پی اور دیگر جماعتوں نے مظاہرے کیے اور حکومت کو موجودہ صورتحال کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ہفتے کے آخر میں بھارت کے ساتھ کرکٹ میچ دیکھ کر پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کی تاہم اس دوران کالعدم ٹی ایل پی کے مشتعل کارکنوں کے وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کے دوران سڑکوں پر قتل عام بھی ہوا۔
وفاقی وزیر داخلہ جو پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے دبئی گئے تھے ان کو اچانک واپس آنا پڑا اور صورتحال کو قابوکرنا پڑا حالانکہ حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے لیکن کالعدم تنظیم سے مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
سڑکوں پر افراتفری پھیلانے اور زندگی کو تعطل میں ڈالنے والے اس طرح کے گروہوں کے لیے یہ ایک معمول ہے۔ ٹی ایل پی پرتشدد مظاہروں کے لیے شہرت رکھتی ہے اور حالیہ مظاہروں میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تاہم ریاست نے انہیں احتجاج کرنے کی اجازت دی اور تمام مقدمات واپس لینے پر اتفاق کیا۔ وزیر داخلہ کا دعویٰ ہے کہ تنظیم کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے لیکن معاہدہ قوم کے سامنے نہیں رکھا گیاکہ کالعدم تنظیم کے ساتھ کن شرائط پر مذاکرات ہوئے ہیں۔
آئی ایس آئی سربراہ کے تقرر کے حوالے سے غلط فہمی کے باعث سول ملٹری تعلقات مثالی نہیں ہیں اورسمری پر جمعہ کو دستخط ہونے کی توقع تھی لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر وزیراعظم کے واپس آنے تک اسے روک دیا گیا ہے۔
معاشی حالات خراب ہورہے ہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سرکاری دعوؤں کے برعکس ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں توپاکستانیوں کو مشکل حالات سے بھی بچنا چاہیے۔
ایک لیڈر کا اصل امتحان مصیبت کے وقت اہم فیصلے لینے میں ہوتا ہے،حکومت کے پاس لڑنے کے لیے کافی مسائل موجود ہیں اب وزیراعظم کو ان حالات میں اسٹریٹجک فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نکالا جاسکے۔