تازہ ترین

تازہ ترین

 بچپن کی بات ہے، ہمارے گھر میں ٹی وی نہ تھا۔ ٹی وی ہی کیا، ٹیپ ریکارڈر اور ریڈیو بھی ابتدائی دور میں نہ تھے۔ سو کرکٹ کبھی ٹی وی پر دیکھی تھی اور نہ ہی کمنٹری سنی تھی لیکن محلے میں بچے کھیلتے تو ہم بھی شریک ہو لیتے۔ شاید 1979ء تھا جب پہلی بار ٹی وی پر کرکٹ دیکھی اور وہ بھی پی اے ایف بیس مسرور کے اس ٹی وی روم کی دیوار سے لگ کر جو چھڑے ایئرمینوں کے لئے تھا۔

جیفری بائیکاٹ اور ڈیوڈ گاور کریز پر تھے۔ ہم تحیر میں ڈوبے اس پہلے تجربے کا لطف لیتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ آج پہلی بار یہ دیکھ لیں گے کہ کون جیتتا ہے اور اصل میچ کیسے جیتے جاتے ہیں مگر وہاں اوور پر اوور اور ٹک ٹک پر ٹک ٹک ہی چلتی جا رہی تھی۔ تقریباً حلفیہ بیان ہی سمجھ لیجئے کہ جیفری بائیکاٹ سے بڑا نیستی ہم نے کرکٹ پچ پر پھر کبھی نہ دیکھا۔ خدا کی پناہ !۔

سو ایک گزرتے ایئرمین سے پوچھ لیا۔ “یہ کب ختم ہوگا ؟” جواب نے ہوش ہی اڑا دئے جو کچھ یوں تھا “چار دن بعد” ہم سیدھا گھر کو دوڑے جہاں کافی دیر غائب رہنے پر ایک عدد دھلائی ہماری منتظر تھی۔

رعایت اللہ فاروقی کے مزید کالم بھی پڑھیں: 

بھگتیں اپنی لبیک کو

سوشل میڈیا اور گالی کا کلچر

منصب کی توقیر

اگرچہ دیکھا پہلی بار ڈیوڈ گاور اور جیفری بائیکاٹ کو ٹی وی پر تھا لیکن پہلا کرکٹی عشق ہمیں ایک دو سال بعد چل کر ویوین رچرڈز سے ہوا۔ جس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ وہ زیادہ ٹک ٹک کے قائل ہی نہ تھے۔

لڑکپن کے دور میں اخبار سے کاٹ کر ان کی ایک عدد تصویر بھی جیب میں کافی دن سنبھالے رکھی تھی جس میں وہ بیٹ تھامے میدان سے نکلتے نظر آرہے تھے۔ ہماری ایک عجیب بدقسمتی یہ رہی کہ میچ دیکھنے کی مہلت بمشکل کچھ منٹ کی ہی مل پاتی۔

ہم جب بھی میچ دیکھنے پہنچتے تو پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ ہوتی۔ یوں اپنی ٹیم کو بیٹنگ کرتا دیکھنے میں گویا ایک مدت ہی لگ گئی۔ لیکن جب پہلی بار پاکستانی ٹیم کو بیٹنگ کرتے دیکھا تو ماجد خان اور ظہیر عباس کریز پر تھے۔

ظہیر کو عینک سمیت بیٹنگ کرتے دیکھا تو حیرت ہوئی کہ جب ہم اپنی کھلونا ٹائپ عینک لگا کر بیٹنگ کرتے ہیں تو کمبخت گینگ کیوں نظر نہیں آتی ؟ان دونوں میں سے ظہیر پر ہم فدا ہوگئے تھے کیونکہ وہ بھی رچرڈز کی طرح زیادہ ٹک ٹک کے قائل نہ تھے۔ ان کے ہک اور پُل کا تو جواب ہی نہ تھا۔ مگر بہت جلد وہ چلتے کر دیئے گئے۔

کچھ ہی عرصے میں وہ دور بھی آیا جب ہم تھے تو لڑکے ہی مگر اب ذرا بڑے سائز والے ہوگئے تھے۔ یوں اب جب بھی پاکستان کا ونڈے میچ ہوتا تو بیماری کا بہانہ کرکے مدرسے سے چھٹی لے لیتے اور شیر شاہ کراچی کے ریستورانوں میں ٹی وی پر میچ دیکھنے پہنچ جاتے۔ ان ریستورانوں میں یہ عجیب آفت تھی کہ ہر آدھ پونے گھنٹہ بعد ٹی وی بند کر دیتے۔ یوں میچ کے لئے بیٹھے سب لوگ نکل جاتے تو دس پندرہ منٹ بعد پھر آن کر دیتے۔

اب دوبارہ آکر بیٹھتے تو پھر سے چائے کا آڈر دینا پڑتا۔ یوں دن میں کوئی چھ سات کپ چائے تو پینی پڑ ہی جاتی۔ ایک بار یوں ہوا کہ ہماری رخصتِ علالت یا کسی بھی اور طرح کی چھٹی پر پابندی لگ گئی۔ سو ہم ایک سو پچیس روپے کا پاکٹ سائز ریڈیو خرید لائے، جس کے ساتھ ایک ایئرفون بھی تھا۔ پاکستانی ٹیم بھارت کے دورے پر تھی۔

کلکتہ میں ون ڈے میچ تھا اور سہ پہر تین چار بجے کے آس پاس کا وقت۔ ہم نے میچ کی فریکوینسی سیٹ کرکے ریڈیو سائڈ والی جیب میں اور اور ایئرفون کان میں ٹھونس رکھا تھا۔ اور اسے استاد کی نظروں سے بچانے کے لئے سر پر کسی شیخ الحدیث والے سٹائل میں رومال ڈال کر اسے گردن کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔

اس میچ میں سلیم ملک دھواں دھار بیٹنگ کر رہے تھے جبکہ باؤلنگ ایک جانب سے منندر سنگھ اور دوسری جانب سے کپل دیو کر رہے تھے۔

میچ بہت ہی سنسنی خیز اور ہم عین دوران سبق دل کی تیز دھڑکنوں کے ساتھ اس کی کمنٹری سن رہے۔ ہماری بدبختی کے میچ کے ان نازک لمحات میں چھکا لگ گیا اور ہم یہ بھول بیٹھے کہ درسگاہ میں بیٹھے ہیں اور سبق چل رہا ہے۔ ہمارے منہ سے نکلے بے اختیار چھکا۔

اس کے کیا نتائج نکل سکتے تھے، اس کا اندازہ لگانا زیادہ دشوار نہیں۔ مگر استاد محترم مولانا عبدالمجید مرحوم بہت ہی نرم دل انسان تھے۔ صرف ڈانٹ اور ریڈیو ضبطی کی سزا پر ہی چھوٹ گئے۔ بات دھلائی تک نہ گئی۔

ہماری حالیہ سالوں کی کسی تحریر کا ستایا اس دور کا کوئی کلاس فیلو آج بھی کہیں ٹکر جائے تو یہ طعنہ ضرور دیتا ہے “تحریروں میں تو بڑی ڈینگیں مارتے ہو، مگر تم وہی چھکے والے ہو نا ؟”ہماری اپنی کرکٹ بھی اس زمانے میں زوروں پر تھی، جو ٹیپ ٹینس بال کی ہوتی۔

اب زمانہ وہ آچکا تھا جب پاکستان وہ کمبخت ورلڈ کپ بھی جیت چکا تھا، جس کی سزا اب بوڑھاپے کی دہلیز پر ہم ہی نہیں سب بھگت رہے ہیں۔

پتہ ہوتا کہ یہ کپ اپنے ساتھ پی ٹی آئی کی بلائیں بھی لایا ہے تو بخدا وہ اظہار مسرت کبھی نہ کرتے جس پر اب پچھتانے کے سوا کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ اس ورلڈ کپ کے دوران دکھ بس ایک ہی بات کا تھا۔

وہ یہ کہ ہم وسیم اکرم کے بجائے وقار یونس کے فین تھے اور وہ ان فٹ ہونے کے سبب اس اسکواڈ میں شامل نہ تھے۔ وقار کے عشق میں تو عمران خان کے بعد والے دور میں ہم نے وسیم اکرم کو مستقل ان فٹ رکھنے کے لئے بے شمار بدعائیں خرچ کر ڈالیں مگر حرام ہے جو ایک بھی کام آئی ہو۔ 90 کی دہائی کے وسط میں پہلی بار اسٹیڈیم جا کر میچ دیکھا۔

خیال یہی تھا کہ لوگ بہت مہنگے مہنگے ٹکٹ خرید کرا سٹیڈیم میں میچ دیکھتے ہیں تو ضرور اس کا لطف بھی کچھ اور ہی ہوگا۔ ہم پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کا میچ دیکھنے گئے تو ساتھ پاپ کارن بھی لے گئے۔

دورانِ میچ کبھی پاپ کارن نکالنے کے لئے اس کے تھیلے کو دیکھیں تو اچانک سب چیخ پڑیں۔ ہم سر اٹھا کر جلدی سے پچ کی جانب دیکھیں تو پتہ چلے کہ کھلاڑی آؤٹ ہوگیا ہے۔

کیسے آؤٹ ہوا ؟ کچھ پتہ نہیں۔ کبھی پاپ کارن منہ میں ڈالنے کے لئے سر پیچھے لے جاکر چہرہ آسمان کی طرف کرلیں تو پھر تماشائیوں کی چیخ و پکار۔

جلدی سے سر سیدھا کرکے پچ کی جانب دیکھیں تو دونوں بیٹسمین کریز کے وسط میں تبادلہ خیال میں مگن۔ ساتھ والے سے پوچھیں “بھئی کیا ہوا ؟” تو جواب ملے “چھکا لگا” کیسا لگا ؟ اب یہ کہاں سے معلوم ہو ؟ وہاں تو نہ کمنٹری اور نہ ہی ایکشن ری پلے۔ تنگ آکر پاپ کارن پھینک دئے تو اب گیری کرسٹن ہی آؤٹ نہ ہو۔

وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے ذوق سے وعدہ کیا کہ آئندہ کوئی کھلاڑیوں کے ڈریسنگ روم میں بٹھا کر میچ دکھانے کی فرمائش بھی کرے تو ہم نہ مانیں۔ میچ کا لطف تو بس دو ہی صورتوں میں ہے۔ ایک یہ کہ آپ ٹی وی پر دیکھ رہے ہوں، جہاں ایکشن ری پلے کی آپشن موجود ہوتی ہے۔

دوسرا یہ کہ آپ خود کھیل رہے ہوں۔ اگر باؤلنگ کر رہے ہوں تو یہ فائدہ کم ہے کہ دیکھ تو لیتے ہیں کہ اگلے کو آؤٹ کیسے کیا ؟ اور اگر بیٹنگ تو یہ لطف کہ چھکا گیا کیسا ؟پاکستانی سپر اسٹارز میں ہمارا آخری عشق انضمام الحق رہے۔

ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بہت کم ایسا ہوا کہ میچ ٹی وی پر دیکھا ہو، بس نتیجہ پوچھ کر خوش یا دکھی ہو لیتے ہیں۔ اس حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے بھی دو میچز کے کچھ حصے دیکھے۔ اب طبیعت اس طرف جاتی ہی نہیں۔

ڈیوڈ گاور اور جیفری بائیکاٹ سے شروع ہونے والے ہمارے شوق کرکٹ کا حاصل اگر ایک سپر اسٹار کی صورت بتائیں تو برائن لارا سے زیادہ کسی نے بھی متاثر نہیں کیا۔ وہ بیٹنگ نہیں بلے سے شاعری کیا کرتا تھا۔

کریز پر اس کا جسم ایک انسانی اسپرنگ بن جایا کرتا۔ عجیب ہی لچک تھی اس شخص میں۔ کبھی اس کے میچز کی ویڈیو دیکھ کر غور کیجئے گا باؤلر کے کریز تک پہنچتے ہی اس کی پوری باڈی کا ہر انگ حرکت میں آجاتا ہے۔

وہ کھڑے کھڑے گیند کا انتظار نہ کرتا بلکہ اس پورے دورانیہ میں اس کی باڈی مختلف شیپس اختیار کرتی چلی جاتی اور عین آخری لمحوں میں عین پرفیکٹ پوزیشن میں ہوتی۔

وہ ایک مسلسل حرکت تھا۔ چہرے یا باڈی لینگویج میں کسی اکڑ یا تکبر کا دور دور کوئی نشان نہیں۔ باؤلر نے چھیڑ دیا تو بہت بڑا ردعمل بھی خفیف سے تبسم سے دیتا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں 365 رنز کا جو ریکارڈ اس نے سالہا سال بعد توڑا۔ وہ چھن گیا تو دس ماہ بعد ہی ایک بار پھر اسےاپنے نام کرلینا کوئی معمولی بات تو نہیں۔

اس کے بڑا کرکٹر ہونے کے ثبوت کے لئے تو اس اننگز ہی کافی ہیں مگر سب سے اہم بات یہ کہ وہ اس دور میں ویسٹ اینڈیز کی ٹیم میں رہا جب یہ ٹیم زمین سے لگ چکی تھی۔ ایسی نکمی ٹیم میں کھیل کر اتنا بڑا قد بنانا بجائے خود ایک کارنامہ ہے۔

ٹنڈولکر کے ساتھ تو ہمیشہ دوسرے اینڈ پر کوئی نہ کوئی بڑا بیٹسمین ہوتا۔ وہ ڈراوڈ، گنگولی اور اظہر الدین جیسے سپرا سٹارز کے ساتھ کریز پر ہوتا۔ کسی کو نام بھی یاد ہے لارا کے ساتھ دوسرے اینڈ پرکونسا نامی گرامی بلے باز ہوتا تھا ؟ کوئی بھی نہیں۔

سب اوسط درجے سے بھی کم کے کھلاڑی۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ برائن لارا کے لئے دوسرا اینڈ سنبھالے رکھنے والا کوئی ہوتا ہی نہیں جس کی وجہ سے اس کی ایک مستقل درد سری یہ بھی رہتی کہ دوسرے بیٹسمین کو اسٹرائیک کم سے کم دینی ہے تاکہ وکٹ بچی رہے اور وہ کھیلتا رہے۔وہ دوسرے اینڈ سے تب ہی بے فکر ہوتا جب ساتھی بیٹسمین تیس چالیس سے اوپر اسکور کر لیتا اور پر اعتماد نظر آرہا ہوتا۔ ورنہ لارا کو تو اپنی وکٹ بھی سنبھالنی پڑتی تھی اور ساتھی کی بھی۔

اپنی اچھے اسٹروک کھیل کر، اور ساتھی کو باؤلروں کی پہنچ سے اسی طرح دور رکھ کر جس طرح دوائیوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے۔

اس صورتحال کا سامنا ٹنڈولکر کو کرنا پڑتا تو خدا ہی جانے کیا حال ہوتا اس کا۔ جاتے جاتے یہ بھی بتا دیں کہ کرکٹ کی نسبت سے ہمیں سب سے بری کیا چیز لگتی ہے۔

وہ جو میچ کے بعد ہر ڈرائنگ روم میں تبصرے شروع ہوجاتے ہیں کہ اگر فلاں کو ون ڈاؤن اور فلاں کو ساتویں نمبر پر بھیج دیا جاتا یا فلاں سے آخری اوور کروالیا جاتا تو ہم آرام سے جیت جاتے۔ ہر شاخ پر بیٹھے سکندر بختوں کے یہ تبصرے زہر لگتے ہیں۔

Related Posts