راولپنڈی کے علاقے مورگاہ کے رہائشی 70 سالہ محمود بیگ کو مبینہ طور پر ایک ہنی ٹریپ (یعنی لالچ دے کر بلانے) کے ذریعے ملتان بلا کر اغوا کرلیا گیا۔ اغواکاروں نے بعد ازاں ان کی ایک ویڈیو واٹس ایپ کے ذریعے اہل خانہ کو بھیجی جس میں محمود بیگ کو ہتھکڑیوں میں دکھایا گیا اور ان کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اغواکاروں نے دس لاکھ روپے نقد، دو آئی فونز اور دو قیمتی گھڑیوں کا مطالبہ کیا ہے جبکہ محمود بیگ کے بینک اکاؤنٹ سے بھی تین لاکھ روپے نکالے جا چکے ہیں۔
مغوی محمود بیگ کے بیٹے ماجد قریشی کی درخواست پر مورگاہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق 16 ستمبر کو محمود بیگ کو ایک عورت سے ملنے کے بہانے ملتان بلایا گیا۔ وہ اپنی موٹرسائیکل ایک دوست کے گھر کے قریب ریلوے اسٹیشن کے آس پاس پارک کر کے اس عورت سے ملاقات کیلئے روانہ ہوئے جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یکم اکتوبر کو مقدمہ درج کیا گیا اور تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق اغواکاروں کا تعلق کچہ کے علاقے سے ہے جو دریائے سندھ کے ساتھ واقع ہے اور جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ پولیس ٹیمیں اغواکاروں کی تلاش میں سرگرم عمل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








