سوات کی سیاحت کیلئے دھچکا! سرینا ہوٹلز انتظامیہ نے پی ٹی آئی حکومت کے خفیہ مفادات بے نقاب کردیئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

خیبر پختونخوا کے مشہور سیاحتی مقام سوات میں قائم عالمی معیار کا سرینا ہوٹل یکم جنوری 2026 سے مکمل طور پر بند ہو گیا جو تقریباً 40 سالہ خدمات کے بعد سیاحت کے شعبے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یہ بندش لیز معاہدے کی میعاد ختم ہونے اور کرایہ میں اضافے پر شدید اختلافات کی وجہ سے ہوئی جس پر پی ٹی آئی کی قیادت والی صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا ہے کہ اس کی پالیسیوں نے ایک معروف بین الاقوامی برانڈ کو صوبے سے نکال باہر کیا۔

خیبر پختونخوا حکومت کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے سوات کے سابق سرینا ہوٹل سے متعلق منفی پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام الزامات حقائق کے برعکس ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق 44 کنال پر مشتمل یہ ہوٹل 1985 میں سالانہ صرف 5 لاکھ روپے کرایہ پر لیز پر دیا گیا تھا۔ 30 سالہ لیز 2015 میں ختم ہو چکی تھی۔ توسیع کی درخواست پر کرایہ کے جائزے کیے گئے، 2014 میں 88.6 لاکھ روپے سالانہ مقرر ہوا مگر اختلافات کی وجہ سے معاملہ عدالتیں پہنچ گیا۔ آخر کار ٹورازم اتھارٹی کی کمیٹی نے مارکیٹ ریٹ 104 ملین روپے سالانہ طے کیا۔ عدالتی معاملات کے بعد اتھارٹی نے ہوٹل واپس لے لیا۔

شفیع جان نے مزید کہا کہ سیاحت صوبے کی معیشت کے لیے کلیدی ہے اور ہوٹل کو شفاف مسابقتی نیلامی سے دوبارہ لیز پر دیا جائے گا، جس سے نمایاں مالی فائدہ ہوگا۔ نیلامی میں ہر کوئی شرکت کر سکے گا اور سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے اقدامات جاری ہیں۔

اس بیان کے جواب میں سرینا ہوٹلز کے سینئر عہدیدار نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں حکومت کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹل نے 2015 سے ہر سال 88 لاکھ روپے ادا کیے اور 2025 کی آخری قسط 1 کروڑ 6 لاکھ روپےادا کی۔ لیز توسیع کا معاہدہ نہ ہونے پر پراپرٹی خالی کی گئی۔ عہدیدار نے بتایا کہ 1985 میں خراب حالت کی پراپرٹی کو کروڑوں کی سرمایہ کاری سے عالمی معیار کا ہوٹل بنایا گیا۔ کووڈ کے دوران کوئی ملازم فارغ نہیں کیا گیا اور سیکیورٹی مسائل کے باوجود سوات کی سیاحت کو زندہ رکھا۔

عہدیدار نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کارروائیوں میں پس پردہ نجی مفادات ہیں اور پراپرٹی کو قریبی افراد کے حوالے کرنے کی کوشش ہے۔ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے دور میں لیز توسیع کی سفارش ہوئی تھی مگر موجودہ حکومت نے رکاوٹیں ڈالیں۔

ماہرین اور صنعتی حلقوں نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کی کہ یہ اقدام بین الاقوامی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ 40 سال خدمات دینے والے عالمی برانڈ کو نکال کر صوبے نے سیاحت کے فروغ کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ ہوٹل بندش سے سیکڑوں ملازمین بے روزگار ہوئے اور سوات کی سیاحت متاثر ہوگی۔

یہ تنازعہ نہ صرف ایک ہوٹل کی بندش بلکہ صوبائی حکومت کی سیاحت دوست پالیسیوں پر بڑا سوالیہ نشان ہے جو عوامی اثاثوں کے نام پر نجی مفادات کو ترجیح دینے کا تاثر دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیلامی سے واقعی شفافیت آتی ہے یا یہ محض بہانہ ثابت ہوتی ہے۔

Related Posts