یونیورسٹی آف لاہور میں دو روز قبل ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب فارمیسی ڈپارٹمنٹ کی پہلے سمسٹر کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے مبینہ طور پر تعلیمی عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی۔ طالبہ شدید زخمی ہوئیں اور ان کی حالت اب بھی انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان کی دونوں ٹانگیں شدید متاثر ہوئیں، ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں پر گہرے زخم آئے جبکہ دماغ پر بھی سنگین چوٹ لگی ہے۔ وہ لاہور جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ایک خصوصی میڈیکل بورڈ ان کے علاج کی نگرانی کر رہا ہے۔
یہ واقعہ 5 جنوری 2026 کو پیش آیا جو یونیورسٹی میں چند ہفتوں قبل پیش آنے والے ایک طالب علم محمد اویس سلطان کی خودکشی کا دوسرا افسوسناک سانحہ ہے۔ اویس نے 19 دسمبر 2025 کو چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر جان دے دی تھی جس پر طلبہ نے شدید احتجاج کیا تھا اور انتظامیہ پر ذہنی دباؤ ڈالنے کے الزامات لگائے تھے۔
پولیس کے مطابق طالبہ فاطمہ صبح یونیورسٹی پہنچیں مگر کلاس میں نہیں گئیں۔ ابتدائی تحقیقات میں گھریلو مسائل، پسند کی شادی نہ ہونے اور ٹیسٹ میں کم نمبر آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ طالبہ نے چھلانگ سے قبل فون پر بات کی اور آخری کال ڈیلیٹ کر دی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے لی ہے اور تحقیقات جاری ہیں تاہم طالبہ کی حالت کی وجہ سے ان کا بیان ابھی ریکارڈ نہیں ہو سکا۔
واقعے کے بعد طلبہ نے احتجاج کیا جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری طور پر تمام آن کیمپس کلاسز معطل کر دیں اور ایک ہفتے کے لیے تدریسی سرگرمیاں آن لائن منتقل کر دیں۔ انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایک ہائی لیول انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ رجسٹرار کا کہنا ہے کہ طالبہ کی حالت اب بہتر ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔
یہ مسلسل دوسرا واقعہ یونیورسٹی آف لاہور کی انتظامیہ پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ ماہرین تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے اور ایسے واقعات اداروں کی ناکامی کی علامت ہیں۔ پولیس نے یقین دلایا کہ تحقیقات مکمل شفافیت سے کی جائیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








