انڈونیشیا میں ایک جوڑے کی جانب سے اپنے نومولود بچے کا نام “علی خامنہ ای” رکھنے کے فیصلے نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی، جس پر انڈونیشیا میں ایران کے ثقافتی دفتر (خانہ فرہنگ ایران) نے انہیں تحائف سے نوازا۔
ایرانی ثقافتی دفتر کے جاری بیان کے مطابق اس اقدام کو ایران اور انڈونیشیا کے عوام کے درمیان ثقافتی اور روحانی تعلقات کی علامت قرار دیا گیا ہے، جو سرحدوں سے ماورا شخصیات کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔
اس موقع پر ایرانی ثقافتی دفتر کے نمائندوں نے بچے کے خاندان سے ملاقات کی اور پھولوں اور تحائف پیش کر کے اپنی قدردانی کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق بچے کے والد ارسا پوترا اور والدہ ورداتل جنہ انڈونیشیا کے علاقے کامپار کے گاؤں تیبون کے رہائشی ہیں۔ جوڑے نے اس نام کے انتخاب کے ذریعے ایرانی قیادت سے اپنی عقیدت اور ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا۔
یہ خبر سوشل میڈیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوئی، خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں اسے غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی دلچسپ ردعمل سامنے آیا، کچھ نے لکھا “علی خامنہ ای دوبارہ آ گیا”، جبکہ دیگر نے کہا “یہ نام صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں لیا جا رہا ہے”۔
بعض صارفین نے اس موقع کی مناسبت سے احمد فراز کا یہ مشہور شعر بھی کوٹ کیا ہے:
اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








