پاکستانی صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ بعض عالمی دارالحکومتوں اور پالیسی ساز حلقوں میں افغانستان کی ممکنہ تقسیم پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کئی بین الاقوامی طاقتیں اب اس نتیجے پر پہنچ رہی ہیں کہ افغانستان بطور ریاست فنکشن کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اس کے حصے بخرے ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
معروف تجزیہ کار اور صحافی محمد مہدی نے یوٹیوب پروگرام مزمل سہروردی شو میں بتایا کہ اس منصوبے کے تحت افغانستان کو جغرافیائی بنیادوں پر تین حصوں میں بانٹنے کی تجاویز زیر غور ہیں، ایک حصہ وسطی ایشیا سے منسلک، دوسرا ایران کے قریب، جبکہ تیسرا پشتون اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہوگا۔ ان کے بقول افغانستان کی مسلسل داخلی کشمکش، مسلح گروہوں کی خودمختاری، اور انتظامی کمزوری نے عالمی برادری کے صبر کو لبریز کر دیا ہے۔
تجزیہ کار نے کہا کہ چین، امریکہ اور دیگر بڑی طاقتیں افغانستان کے مستقبل کے لیے متبادل ماڈلز پر غور کر رہی ہیں جن میں نئی سرحدی ساخت یا نیم خودمختار انتظامی یونٹس کا قیام شامل ہے۔
مہدی کے مطابق افغان طالبان نے واخان کوریڈور کے ذریعے چین سے اقتصادی رابطہ بڑھانے کی کوشش کی تھی، مگر بیجنگ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اس تجارتی راستے کے استعمال سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آمو بیسن کے معدنیاتی منصوبوں میں چینی محتاط رویہ اسی بےاعتمادی کی علامت ہے۔
پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے محمد مہدی نے کہا کہ اسلام آباد اب تک افغانستان کی تقسیم کے خلاف پالیسی رکھتا آیا ہے، مگر طالبان-ہند روابط میں اضافے کے باعث پاکستانی مؤقف میں تبدیلی کے آثار بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان میں تقسیم یا مسلح گروپوں کا مستقل کنٹرول قائم ہوا تو پورے خطے میں عدم استحکام، سرحدی کشیدگی، اور انسانی المیے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








