آئی سی سی بھارت کی گندی سیاست کے شکنجے میں؟ سابق میچ ریفری نے کچا چٹھا کھول دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

سابق میچ ریفری کرس براڈ، برطانوی میڈیا

انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر اسٹورٹ براڈ کے والد اور سابق آئی سی سی میچ ریفری کرس براڈ نے عالمی کرکٹ کے سب سے بڑے ادارے کی بھارت نوازی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت کے خلاف کارروائی سے بچانے کے لیے آئی سی سی حکام کی جانب سے انہیں باقاعدہ فون کالز کی جاتی تھیں۔

برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کرس براڈ نے بتایا کہ بھارتی کرکٹ لابی نے آئی سی سی پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے، اور اب بی سی سی آئی دراصل پوری انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو کنٹرول کر رہی ہے۔

سابق میچ ریفری کے مطابق انہیں متعدد مواقع پر اعلیٰ حکام کی جانب سے ہدایت دی گئی کہ بھارت کے خلاف نرمی برتی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک میچ میں بھارت تین یا چار اوور پیچھے تھا، جرمانہ بنتا تھا، لیکن اوپر سے فون آیا کہ نرمی دکھاؤ کیونکہ “یہ بھارت ہے”۔ نتیجتاً ہمیں کوئی بہانہ گھڑ کر اوورز کی کمی کم ظاہر کرنا پڑی تاکہ جرمانہ نہ لگے۔

کرس براڈ نے کہا کہ آئی سی سی میں سیاست اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ فیصلے اب کرکٹ کے بجائے سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ “میں خوش ہوں کہ اب اس نظام کا حصہ نہیں ہوں، کیونکہ یہ عہدہ پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی ہو چکا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے پاس پیسہ ہے، اثر و رسوخ ہے اور وہ اس وقت آئی سی سی کے ڈھانچے پر حاوی ہے۔ جب تک ونس وین ڈر بائل (سابق امپائرز مینیجر) موجود تھے، نظام میں کچھ شفافیت تھی، لیکن ان کے جانے کے بعد انتظامیہ کمزور ہو گئی اور سیاست نے کرکٹ کو نگل لیا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کے دوران بھی بھارت نے کھیل میں سیاست کو ہوا دی تھی۔ پاکستان اور بھارت کے میچ میں ریفری اینڈی پائیکرافٹ کے ذریعے پاکستان کے خلاف جانبداری برتی گئی۔

اسی طرح ایشیا کپ میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد بھارتی کھلاڑیوں نے اسپورٹس مین اسپرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ترجمان قومی ٹیم کے مطابق ٹاس کے وقت بھی میچ ریفری نے کپتانوں کو ہاتھ نہ ملانے کا مشورہ دیا تھا، جس پر پاکستانی کپتان آغا سلمان نے احتجاجاً اختتامی تقریب میں شرکت نہیں کی۔

بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے بھی کھیل کو سیاست سے جوڑتے ہوئے پاکستان کے خلاف جیت کو “پہلگام واقعے” کے نام کر دیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے اس اقدام پر شدید احتجاج کیا گیا اور آئندہ میچ نہ کھیلنے کی دھمکی دی گئی۔ بعد ازاں، میچ ریفری کی جانب سے معذرت کے بعد معاملہ وقتی طور پر ختم کر دیا گیا۔

Related Posts