بڑے یہودی فرقے نے عین جنگ کے دوران اسرائیل چھوڑنے کی دھمکی دیدی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ٹائمز آف اسرائیل

ایسے وقت جب اسرائیلی فوج کو غزہ جنگ میں بڑے پیمانے پر فوجی ہلاکتوں کے باعث افرادی قوت کی کمی کے بحران کا سامنا ہے، اسرائیل کے ایک بڑے یہودی مذہبی فرقے سفاردیم (مشرقی یہودی فرقہ) کے سربراہ اسحاق یوسف (یتزاک جوزف) نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے فرقے کے پیروکاروں کو فوجی بھرتی پر مجبور کیا گیا تو وہ فوجی خدمات پر اجتماعی طور پر اسرائیل چھوڑ جانے کو ترجیح دیں گے۔
نجی عبرانی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسند یہودی فرقے کے سربراہ نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ہمیں فوج میں بھرتی ہونے پر مجبور کردیا گیا تو ہم سب ملک چھوڑ جائیں گے، ہم ٹکٹ خریدیں گے اور یہاں سے نکل جائیں گے۔

تنازع کیا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ سیکولرسٹ سیاستدان متنازع فیصلوں کے ذریعے اسرائیلی ریاست کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ سمجھنا چاہیے، وہ تمام سیکولر جو اس معاملے کو نہیں سمجھتے۔
اسرائیل میں دو بڑے یہودی مذہبی پیشوا ہیں، ایک سفاردیم (Sephardic) فرقہ (مشرقی یہودی فرقہ) کی نمائندگی کرتا ہے اور دوسرا اشکنازی (مغربی یہودی فرقہ) کی نمائندگی کرتا ہے، اور انہیں دو سردار رِبی (مذہبی پیشوا) کہا جاتا ہے۔
ان میں سے ہر ایک 10 سال تک اپنے عہدے پر فائز ہوتا ہے، ان کے انتخاب میں 150 لوگ حصہ لیتے ہیں، جن میں رِبی، میئر، لوکل کونسل، وزرا اور اسرائیلی پارلیمان کے ارکان شامل ہوتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں مذہبی فرقوں کی حمایت یافتہ سیاسی جماعتیں اس وقت نیتن یاہو کی کابینہ میں شامل ہیں۔ سفاردیم کے رِبی اسحاق یوسف نے اپنے بیان میں زور دیا کہ انہیں سمجھنا چاہیے کہ تورات کے بغیر، کالج کے بغیر، یاشیوا کے بغیر، فوج کے لیے کوئی کامیابی نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ تورات کے بیٹوں کی بدولت ہے۔ سپاہی تورات کی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔

مذہبی یہودیوں کو حاصل خصوصی مراعات
واضح رہے کہ اسرائیل میں تمام شہریوں کیلئے لازمی فوجی خدمت کا قانون ہے، تاہم اس قانون سے کٹر مذہبی یہودیوں کو استثنا حاصل ہے۔

اس استثنا کی بنیاد یہ ہے کہ مذہبی یہودیوں کا خیال ہے کہ وہ چونکہ اپنے آپ کو تورات کے نشر و اشاعت کیلئے وقف کرتے ہیں اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صرف مذہب کے فروغ اور تحفظ کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اس لیے وہ کوئی دوسری سرگرمی اختیار نہیں کرسکتے۔

مذہبی یہودی ایک مذہبی مدرسے میں تورات کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے۔

 چنانچہ مذہبی یہودی تورات کی خدمت کے بہانے فوجی خدمات سے گریز کرتے ہیں اور انہیں اس سے قانونی طور پر استثنا حاصل ہے، اس کے علاوہ تورات اور مذہب کی خدمت کیلئے وقف مذہبی یہودیوں کیلئے اسرائیلی حکومت خطیر بجٹ مختص کرتی ہے۔

مذہبی یہودیوں کیلئے مختص بجٹ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ کمانے اور کھانے کی فکر سے آزاد ہوجاتے ہیں اور بے فکری کے ساتھ صرف اور صرف مذہبی تعلیم کے فروغ میں مصروف ہوتے ہیں۔

عوامی غم و غصہ

تاہم حالیہ دنوں ان کی اس مفت کی عیاشیوں اور لازمی فوجی خدمت سے استثنا کیخلاف عوامی سطح پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
چنانچہ اسرائیلی اپوزیشن کے سربراہ یائر لاپڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسودہ قانون کی مخالفت میں ان کے ساتھ شامل ہوں، جس میں مذہبی یہودیوں (حریدیم) کو فوجی خدمات سے استثنا دیا گیا ہے۔
دوسری طرف نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت استثنا برقرار رکھنے کے ساتھ عوام کیلئے لازمی فوجی سروس کی مدت کو 32 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی بات کو لیکر اسرائیل میں شدید تقسیم کی کیفیت ہے۔

Related Posts