وسطی ایشیائی ملک قازقستان نے جبری شادیوں اور دلہنوں کے اغوا کی روایت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قازقستان میں منگل کو ایک قانون نافذ ہوگیا ہے جس کے بعد ملک میں جبری شادیوں اور دلہنوں کے اغوا پر پابندی عائد ہوگئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قازقستان میں اب کسی کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے پر 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ یہ قانون جبری شادیاں روکنے اور کمزور طبقوں، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے نافذ کیا گیا۔
اس کے علاوہ دلہنوں کے اغوا پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس سے پہلے اگر کوئی اغوا کار متاثرہ کو اپنی مرضی سے چھوڑ دیتا تو اس کا قانونی کارروائی سے بچنے کا امکان ہوتا تھا تاہم اب یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔
دلنہوں کو اغوا کرنے کی انوکھی روایت
قازقستان کے دیہی علاقوں کی ایک قدیم روایت کے تحت شادی کے لیے دلہن کو اغوا کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں میں اس روایت کی جڑیں اس قدر مستحکم ہین کہ ہر تین میں سے ایک لڑکی کی شادی اسی طرح ہوتی ہے۔
اغوا کی کارروائی عوامی مقامات پر کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ اغوا کا مقصد شادی کرنا ہے۔
اغوا میں لڑکے کے والدین اور عزیزوں کی رضامندی شامل ہوتی ہے اور اغوا کے بعد لڑکی کے والدین کو بلا کر شادی کے لیے کہا جاتا ہے۔ انکار کی صورت میں تشدد کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔
اقوام متحدہ ہر قسم کی جبری شادی کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قازقستان کی حکومت نے اب اس روایت پر پابندی عائد کردی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








