بھارتی ریاست آندھراپردیش کی نیشنل سنسکرت یونیورسٹی میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں بی ایڈ کی پہلی سال کی ایک 27 سالہ طالبہ کے ساتھ دو اسسٹنٹ پروفیسروں نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی۔
پولیس کے مطابق اوڈیشہ کی رہائشی طالبہ پر ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر لکشمن کمار نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دفتر کے کمرے میں جنسی حملہ کیا جبکہ اسی شعبے کے دوسرے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اے شیکھر ریڈی نے کھڑکی سے اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی اور طالبہ کو بلیک میل کیا۔ ملزمان نے دھمکی دی کہ مواد کو سوشل میڈیا پر وائرل کردیا جائے گا جس سے طالبہ کو شدید جسمانی اور ذہنی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
متاثرہ لڑکی نے یونیورسٹی حکام کو شکایت درج کروائی جس کے بعد اندرونی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی اور ڈاکٹر لکشمن کمار کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ بعد ازاں یونیورسٹی کے انچارج رجسٹرار رجنیکانت شکلا کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا اور کارروائی شروع کی۔
اعلیٰ پولیس افسر کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جبکہ سی آئی مروُلی موہن کی ٹیم متاثرہ کے آبائی گاؤں جا کر اس کا بیان قلمبند کیا۔منگل کے روز پولیس نے دونوں ملزمان لکشمن کمار اور شیکھر ریڈی کو گرفتار کرلیا۔

ادھر ریاستی خواتین کمیشن نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ضلع ایس پی سے رپورٹ طلب کی۔ خواتین کمیشن کی چیئرپرسن رایا پٹی شائلجا نے فوری گرفتاری کی ہدایت دی اور رکن رقیہ بیگم کو موقع پر جا کر یونیورسٹی کی اندرونی شکایات کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








