گیس ماسک پہنے فوجی کا خوفناک کھیل! اسموک گرنیڈز پھینکے اور پھر چاقو سے حملہ! تائیوان میں سوگ کی فضا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں ایک افسوسناک اور پرتشدد واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے چاقو کے ذریعے مختلف افراد پر اندھا دھند حملے کیے جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ گیارہ زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آور گرفتاری سے بچنے کی کوشش میں ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کی عمارت سے چھلانگ لگا کر ہلاک ہو گیا۔

پولیس کے مطابق 27 سالہ ملزم چانگ وین نے تائی پے مین میٹرو اسٹیشن کے قریب اسموک گرنیڈز پھینکے اور شہریوں پر چاقو سے حملے شروع کیے۔ ملزم نے گیس ماسک اور سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔ حملے کے بعد وہ انڈر گراؤنڈ راستے کے ذریعے ایک قریبی ہوٹل پہنچا جہاں سے اس نے مزید ہتھیار حاصل کیے اور پھر ژونگشان میٹرو اسٹیشن کے قریب واقع مشہور شاپنگ ایریا ایسلائٹ اسپیکٹرم نانشی ڈپارٹمنٹ اسٹور جا پہنچا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے ڈپارٹمنٹ اسٹور کی پہلی اور چوتھی منزل پر موجود افراد کو نشانہ بنایا اور گردن پر وار کیے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 57 سالہ شخص بھی شامل ہے جو حملہ آور کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ ایک اور شخص اسٹور کے باہر جان سے گیا۔ تیسری ہلاکت کی تفصیلات کی تصدیق جاری ہے۔

زخمی ہونے والوں میں سے بعض کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے جن میں دو افراد کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ ملزم نے حملے سے قبل مختلف مقامات کا جائزہ لیا تھا اور مبینہ طور پر دیگر جگہوں پر آگ لگانے کے واقعات میں بھی ملوث تھا۔ پولیس نے ملزم کی رہائش گاہ اور ہوٹل کے کمرے سے اضافی ہتھیار برآمد کر لیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نومبر 2024 میں ریزرو ملٹری ٹریننگ میں عدم حاضری پر مطلوب تھا اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود تھا۔ تاحال حملے کا مقصد سامنے نہیں آ سکا اور کسی ساتھی کے ملوث ہونے کے شواہد بھی نہیں ملے۔

واضح رہے کہ تائیوان میں پرتشدد جرائم کے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ صدر لائ چنگ تے نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

Related Posts