سائنسدانوں نے تکلیف دہ یادیں بھلانے کیلئے آواز سے مدد لینے کی تکنیک ایجاد کرلی

تازہ ترین

تازہ ترین

سائنسدانوں نے ناخوشگوار یادوں کو بھلانے کیلئے آواز سے مدد لینے کی تکنیک ایجاد کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ جب لوگ سو جاتے ہیں تو مخصوص قسم کی آوازوں سے انہیں کچھ یادیں بھلانے میں مدد دی جاسکتی ہے جو انہیں تکلیف دہ محسوس ہوتی ہوں۔

حال ہی میں پارک یونیورسٹی کے محققین نے یہ حقیقت دریافت کی کہ سوتے وقت کچھ آوازیں انسان کو یادیں بھلانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں جبکہ گزشتہ تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ نیند کے دوران صوتی اشاروں سے کچھ یادوں کو تقویت دے کر مزید واضح کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کیا ایمیزون نے ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنالیا؟

تحقیق کے مصنف ڈاکٹر بارڈور جوینسن کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالعے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ نہ صرف صوتی اشاروں سے کچھ بھلائی ہوئی باتیں یاد آسکتی ہیں بلکہ کچھ تکلیف دہ باتیں بھلائی بھی جاسکتی ہیں، جبکہ ہماری تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے پر ہے جس میں مزید بہتری کی بہت گنجائش ہے۔

محققین نے آواز پر کی جانے والی تحقیق کیلئے 29 افراد کو استعمال کیا اور انہیں کچھ الفاظ یاد کرنے کی ہدایت کی۔ پھر اگلی رات پارک یونیورسٹی میں گزاری جن کو 2 گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس دوران محققین نے کچھ الفاظ کو مخصوص انداز سے ادا کیا۔

دونوں گروہوں پر 2 مختلف تجربات آزمائے گئے۔ اگلی صبح بیدار ہونے پر دونوں گروہوں کے تجربات مختلف رہے۔ ایک گروہ کی یادداشت میں اضافہ جبکہ دوسرے کی یادداشت میں کمی سامنے آئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سوتے وقت متعلقہ آوازیں بجانے سے دماغ پر اثر پڑتا ہے۔

نیند نے مخصوص یادوں کو بھلانے یا واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ محققین میں شامل ڈاکٹر ایڈن ہورنر کا کہنا ہے کہ نیند اور یادداشت کے مابین تعلق دلکش ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نیند حافظے کی پراسیسنگ کیلئے اہم ہے اور ہماری یادیں عموماً نیند کے بعد بہتر ہوجاتی ہیں۔

Related Posts