لندن کے تاریخی ٹاور برج پر 30 دسمبر 1952 کو ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جو آج بھی برطانیہ کی ٹریفک سیکیورٹی کا اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔شدید برف باری کے دوران ایک ڈبل ڈیکر بس برج کے درمیان اٹھے ہوئے حصے کی جانب بڑھ گئی اور کھلے خلا کے کنارے جا کر لٹک گئی۔ چند لمحوں میں رونما ہونے والے اس خطرناک حادثے کو بس کے کنڈکٹر کی حاضر دماغی نے ایک بڑے سانحے میں بدلنے سے بچا لیا۔
واقعے کی تفصیل
حادثہ شام 7 بج کر 15 منٹ پر اس وقت پیش آیا جب روٹ نمبر 78 کی بس ٹاور برج سے گزر رہی تھی۔ برفباری اور ٹریفک جام کے دوران سامنے والی کار نے اچانک بریک لگائی جس کے باعث بس پھسلتی ہوئی اس حصے تک پہنچ گئی جہاں برج کا درمیانی سیکشن اوپر اٹھ چکا تھا۔

ڈرائیور البرٹ گیو نے آخری لمحے بس کا رخ موڑا مگر بس کا اگلا حصہ 65 فٹ نیچے کھلے خلا پر لٹک گیا جبکہ پچھلا حصہ سڑک پر رہ گیا۔ بس میں موجود 20 مسافر خوف سے چیخ اٹھے۔
کنڈکٹر کی حاضر دماغی نے جانیں بچا لیں
اسی وقت کنڈیکٹر ریجینالڈ ووڈ نے نہایت جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بس کے پیچھے والے دروازے سے ایک مسافر کو باہر نکالا اور فوری طور پر بس کی زنجیروں کو سڑک کے کنارے مضبوطی سے باندھ دیا۔یہ زنجیر بس کے مکمل طور پر نیچے گرنے کے خدشے کو روکنے کا واحد سہارا ثابت ہوئی۔
اس کے بعد ووڈ نے تمام 20 مسافروں کو باری باری بس سے باہر نکالا اور یوں ایک ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا۔بعد میں ڈرائیور نے بتایا کہ انہیں یقین تھا کہ بس نیچے گر جائے گی مگر کنڈکٹر کی بہادری نے سب کو محفوظ رکھا۔
حادثے کے فوری بعد کی صورتحال

خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم بس کو شدید نقصان پہنچا اور بعد میں اسے کرین کے ذریعے ہٹایا گیا، حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، پولیس اور ایمبولینس 20 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئی جبکہ اخبارات نے اگلے روز اس واقعے کو نمایاں طور پر نشر کیا اور ووڈ کو ہیرو آف دی برج قرار دیا
حفاظتی اقدامات میں تبدیلیاں
اس واقعے کے بعد لندن انتظامیہ نے برفباری کے دوران ٹریفک کے لیے نئی حفاظتی پالیسیز متعارف کروائیں جن میں سڑکوں پر نمک اور ریت کا باقاعدہ چھڑکاؤ، حساس مقامات پر اضافی رکاوٹیں، بسوں میں ایمرجنسی بریک سسٹم کی بہتری اور برج کے کھلنے اور بند ہونے کے دوران ٹریفک مینجمنٹ مزید سخت کرنا شامل ہیں۔
اعزازات

ملکہ الزبتھ دوم نے کنڈکٹر ریجینالڈ ووڈ کو برٹش ایمپائر میڈل سے نوازا جبکہ ڈرائیور البرٹ گیو کو بھی بہادری پر اعزاز دیا گیا۔
برج کی تاریخ کا حصہ
ٹاور برج واقعے کی تفصیلات اس کی سرکاری ویب سائٹ اور نمائش میں محفوظ ہیں۔ وہاں آنے والے سیاح اس بس جمپ کی تصاویر اور انٹرایکٹو ویڈیوز بھی دیکھ سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








