پنجابی اداکارہ سونم باجوا حال ہی میں اپنی آنے والی فلم پٹ سیاپا کے ایک منظر کے حوالے سے شدید تنازع میں پھنس گئی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ فلم کی ٹیم نے پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب کے سرہند میں واقع تاریخی بھگت سادھنا مسجد میں شوٹنگ کی جس پر مذہبی رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور مذہبی مقامات کے احترام پر وسیع مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔
پنجاب کے شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے اداکارہ اور فلم کی پوری ٹیم کے خلاف سخت پولیس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شاہی امام کے مطابق ٹیم کی جانب سے مسجد کے اندر فلم بندی کا فیصلہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر ایس ایس پی فتح گڑھ صاحب کے پاس شکایت بھی درج کرائی ہے۔
امام نے کہا کہ کسی بھی مسجد میں فلم بندی سختی سے ممنوع ہے مگر ٹیم نے ان پابندیوں کے باوجود شوٹنگ کی۔
انہوں نے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ مسجد بھگت سادھنا کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، جنہیں سکھ اور مسلم دونوں کمیونٹیز میں عظیم احترام حاصل ہے۔ ان کے نغمات گرو گرنتھ صاحب میں شامل ہیں۔ یہاں فلم بندی کرنا حیران کن اور مسجد کی تقدس کی خلاف ورزی ہے۔
شاہی امام نے مزید کہا کہ شکایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ شوٹنگ رات کے وقت ہوئی، جس کے دوران مبینہ طور پر مسجد کے اندر کھانے اور مشروبات کا استعمال بھی کیا گیا، جو مذہبی آداب کے خلاف ہے۔
امام نے یہ بھی بتایا کہ مسجد کے باہر واضح طور پر ایک بورڈ لگا ہے جو کسی بھی قسم کی فلم بندی کو منع کرتا ہے، تاہم ٹیم نے اس کے باوجود شوٹنگ جاری رکھی۔
شاہی امام نے مزید الزام عائد کیا کہ فلم کے بعض مناظر مذہبی نقطہ نظر سے بھی قابل اعتراض ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اداکارہ، ہدایتکار، پروڈیوسر کے علاوہ کسی بھی ایسے اہلکار کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے شوٹنگ کی اجازت دی ہو۔
امام نے زور دیاکہ مسجد کی تقدس کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور ایمان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








