لاہور کی المناک داستان؛ پھل فروش کی سنگدلی اور عوامی بے حسی نے ماں کی گود اجاڑ دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

رائے ونڈ میں ایک معمولی تنازعہ نے دو بھائیوں سے جینے کا حق چھین لیا، مقامی ذرائع کے مطابق پھل کی قیمت پر شروع ہونے والا جھگڑا اس وقت خوفناک شکل اختیار کر گیا جب پھل فروشوں نے دو بھائیوں واجد اور رشید پر بے رحمانہ تشدد کیا۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ دو روز قبل پیش آیا جس نے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔

واقعہ کی تفصیلات

یہ افسوس ناک واقعہ 2 روز قبل لاہور روڈ پر پھلوں کی خریداری کے دوران دونوں بھائیوں اور پھل فروش کے درمیان تکرار کے بعد پیش آیا دونوں بھائیوں نے پھل خریدے پھل فروش نے 130 روپے طلب کیے خریدار بھائی پیسے دینے لگا تو ان کے پاس 100 روپے اور 5 ہزار کے نوٹ تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اس دوران 30 روپے کی ادائیگی پر تکرار ہوگئی اور نوبت جھگڑے تک جا ہپنچی جس پر پر پھل فروش نے اپنی ساتھیوں کو کرکے بلالیا جو قریب ہی کرکٹ کھیل رہے تھے۔ پھل فروشوں نے دونوں بھائیوں پر ڈنڈوں اور دیگر اشیاء سے حملہ کیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ واجد موقع پر ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ رشید کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ بھی اتوار کے روز زخموں کی تاب نہ لا سکا اور اسپتال میں دم توڑ گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو

اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں دونوں بھائیوں کو خون میں لت پت زمین پر پڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ملزمان کو بے رحمی سے ڈنڈوں سے حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ اردگرد موجود لوگ خاموشی سے یہ منظر دیکھتے رہے۔ اس ویڈیو نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور لوگوں نے پولیس سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔

پولیس کا ردعمل

مقامی پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جھگڑا پھل کی قیمت پر معمولی اختلاف کی وجہ سے شروع ہوا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے تشدد میں بدل گیا۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

عوامی ردعمل

اس واقعے نے مقامی کمیونٹی اور سوشل میڈیا صارفین میں شدید صدمے اور غصے کو جنم دیا ہے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کیا کہ ایک معمولی تنازعہ اتنی بڑی تباہی کا باعث بن گیا۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ آس پاس موجود لوگوں نے تشدد روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ اس کے علاوہ عوام نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

Related Posts