ڈی ایم سی ساؤتھ کے محکمۂ آؤٹ ڈور ایڈورٹائزمنٹ نے اشتہار لگانے کیلئے درخت کاٹ دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈی ایم سی ساؤتھ کے محکمۂ آؤٹ ڈور ایڈورٹائزمنٹ نے اشتہار لگانے کیلئے درخت کاٹ دیا
ڈی ایم سی ساؤتھ کے محکمۂ آؤٹ ڈور ایڈورٹائزمنٹ نے اشتہار لگانے کیلئے درخت کاٹ دیا

کراچی میں بلدیہ جنوبی (ڈی ایم سی ساؤتھ) کے محکمۂ آؤٹ ڈور ایڈورٹائزمنٹ نے اشتہار لگانے کیلئے درخت کاٹ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آؤٹ ڈور ایڈورٹائزمنٹ کے ڈائریکٹر غنی نے میونسپل کمشنر اختر شیخ کے ایماء اور مشتہر کی فرمائش پر صدر زون میں میرٹ ہوٹل اور کے ایم سی محکمۂ باغات کے دفتر کی درمیانی سڑک کے کنارے لگے درخت کو بے دردی سے کاٹ دیا ہے۔ 

 با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فٹ پاتھ سے ملحقہ دیوار پر ایک اشتہار لگنا تھا جس کو نمایاں کرنے کے لیے ایڈورٹائزر نے ایم سی اختر شیخ سے فرمائش کی کہ پہلے اس درخت کو کٹوایا جائے تاکہ اشتہار واضح کیا جاسکے جبکہ اس ڈیل میں ڈائریکٹر غنی نے اہم کردار ادا کیا۔

ڈائریکٹر غنی نے محکمۂ باغات کے مالیوں کی مدد سے اس درخت کو کاٹ دیا۔ واضح رہے کہ درخت کاٹنا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے اور محکمہ ماحولیات نے اس حوالے سے سخت ہدایات جاری کر رکھی ہیں تاہم بلدیہ جنوبی کے متعلقہ افسران کو صرف اپنے نذرانوں کی فکر ہے۔

بے رحمی سے کاٹے گئے درخت کی کٹائی کے عوض مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے کی رقم ادا کی گئی ہے جبکہ  اشتہار  لگانے کیلئے بھی 10 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل بھی اسی کرپٹ ٹولے نے کلفٹن کے علاقے 26 اسٹریٹ میں 2 اشتہارات بغیر چالان وصول کیے لگانے کے عوض 40 لاکھ روپے مبینہ طور پر وصول کیے تھے ۔

کرپٹ افسران نے اس کے علاوہ ماہانہ 10 لاکھ روپے پرائم سروس کے روح رواں عارف سے طے کیے تھے ، جس کی خبر ایم ایم نیوز ٹی وی نے  27 نومبر کوشائع کی تھی جس پر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ نے ملوث افسران کو بلوایا اور ایڈورٹائزر کو بھی بلویا اور چالان طلب کیا۔

مذکورہ کرپٹ افسران چالان پیش کرنے میں ناکام رہے تاہم سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ نے ان کے خلاف کارروائی اچانک روک دی جس کے بعد افسران اور ایڈورٹائز نے اپنے حلقۂ احباب میں یہ دعویٰ کیا کہ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ ضمیر عباسی سے مک مکا کیا گیا ہے۔

بدعنوان افسران اور ایڈوائزر کے مطابق بھاری نذرانہ دے کر اس غیر قانونی اشتہار کو جائز کروا لیا گیا، اشتہار اب بھی لگا ہوا ہے ، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے، اس حوالے سےضمیر عباسی سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم کوئی بات نہ ہوسکی۔ 

یہ بھی پڑھیں: کے ڈی اے  میں ڈونیشن آفیسر انچارج انسدادِ تجاوزات مقرر

Related Posts