اسلام آباد: شہر اقتدار کےتھانہ آبپارہ کی حدود میں سی ڈی اے اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کے سامنے پارکنگ سے نئے ماڈل کی موٹر سائیکل 125 کی چوری کوایک ماہ گزرنے کے باوجود پولیس تاحال ٹس سے مس نہ ہوئی۔
متاثرہ شہری نے اپنی مدد آپ کے تحت اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور موٹر سائیکل چور کی واضح تصاویر حاصل کرکے پولیس کو فراہم کیں تاکہ ملزم کی تلاش میں پولیس کو آسانی ہوسکے تاہم تفتیشی آفیسر نے نادرا آفس کے عملے کی طرف سے تعاون نہ کرنے کا بہانہ کرکے ملزم کو ٹریس کرنے سے صاف معذرت کرلی۔
معلوم ہوا ہے کہ 8 جون 2020ء کو سی ڈی اے اسپتال کے ایڈمن منیجر عبدالغفور کا ون ٹو فائیو موٹر سائیکل نمبر ARM 059 ماڈل 2018ء اسپتال کی پارکنگ سے چوری ہوگیا۔ پولیس تھانہ آبپارہ نے واقعہ کا مقدمہ نمبر 213/20 تو درج کرلیالیکن پولیس کی تفتیش ایک انچ آگے نہ بڑھ سکی۔
متاثرہ شہری نے سیف سٹی کے آفس جاکر سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود عملے نے واپس بھیج دیا جس کے بعد متاثرہ شہری نے اپنی مدد آپ کے تحت اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزم کی کلوز تصاویر نکال کر تفتیشی آفیسر اے ایس آئی نصراللہ کو دیں ۔تفتیشی آفیسر نے یہ کہہ کر جان چھڑالی کہ نادرا کاعملہ ہمارے ساتھ بالکل تعاون نہیں کر رہا جس کی وجہ سے ملزم کی شناخت ممکن نہیں۔
متاثرہ شہری کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز سے واضح پتہ چلا کہ چھ ماہ قبل بھی سی ڈی اے اسپتال سے یہی چور ایک موٹر سائیکل لے اڑا تھا اور اب یہ اس کی دوسری واردات ہے لیکن پولیس اس پیشہ ور چور کو ٹریس کرنے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے،متاثرہ شہری نے آئی جی پولیس اسلام آباد عامر ذوالفقار خان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔