سوشل میڈیا پر سابق گلوکارہ و اداکارہ رابی پیرزادہ کی حالیہ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جن میں ان کے لباس اور انداز پر صارفین کی جانب سے سخت تنقید سامنے آ رہی ہے۔ وائرل مواد کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور صارفین متضاد آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ رابی پیرزادہ نے ماضی میں مذہبی طرزِ زندگی اختیار کرنے اور اس سے جڑی مصنوعات کی تشہیر کے بعد اب دوبارہ پرانے انداز کی طرف واپسی اختیار کر لی ہے جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سفید چادر میں لپٹاہوا مری، قدرت کی بنائی ہوئی جنت میں میرا گھر ۔۔۔۔۔
My home wrapped in a white sheet, a paradise created by nature#Rabipirzada pic.twitter.com/qbQKeiWhAi— Rabi Pirzada (@Rabipirzada) January 31, 2026
ایک خاتون صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رابی پیرزادہ نے نازیبا ویڈیوز لیک ہونے کے بعد مذہبی حلیہ اپنایا تھا تاہم اب وہ آہستہ آہستہ دوبارہ سابقہ طرزِ زندگی کی جانب لوٹتی دکھائی دے رہی ہیں۔ بعض دیگر صارفین نے بھی سخت الفاظ میں تنقید کی اور ان کے ماضی کے بیانات کو یاد دلایا۔
واضح رہے کہ رابی پیرزادہ نے گزشتہ برس نومبر میں شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہنے اور نئی زندگی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا تھا جب ان کی مبینہ نازیبا ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر لیک ہوئیں جس کے بعد انہوں نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
شوبز چھوڑنے کے اعلان کے بعد رابی پیرزادہ نے سوشل میڈیا پر چند ایسی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی تھیں جن میں انہوں نے مذہبی طرزِ زندگی اپنانے اور آئندہ زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ دسمبر 2019 کے آخر میں انہوں نے مذہبی مواد، قرآنی آیات اور اسلامی تعلیمات پر مبنی پیغامات بھی شیئر کرنا شروع کیے تھے جس پر کئی صارفین نے ان کے فیصلے کو سراہا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

رابی پیرزادہ نے اس دوران یہ بھی کہا تھا کہ وہ قرآن پاک کی تلاوت ترجمے کے ساتھ شیئر کریں گی اور مختصر ویڈیوز کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو عام کریں گی۔ ان کے اس اقدام پر متعدد افراد نے مثبت ردِعمل دیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

یاد رہے کہ 2019 میں رابی پیرزادہ کی مبینہ نازیبا ویڈیوز اور تصاویر لیک ہونے کے بعد انہوں نے سائبر کرائم ونگ سے بھی رابطہ کیا تھا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ مواد ان کے ذاتی موبائل فون میں موجود تھا، جو وہ کچھ عرصہ قبل فروخت کر چکی تھیں۔ ان کے مطابق فون فروخت کرنے کے بعد ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا ممکنہ طور پر ریکور کر کے لیک کیا گیا جس پر انہوں نے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست بھی دی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








