عبداللہ کی لاش 21 روز بعد مل گئی؛ دریائے سوات سے جسد خاکی برآمد

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

دریائے سوات کے سیلابی پانی میں 27 جون کو ڈوبنے ہونے والے 17 سالہ نوجوان عبداللہ کی لاش 21 دن بعد دریائے سوات سے برآمد کر لی گئی۔ نوجوان 27 جون کو دریائے سوات میں ڈوب گیا تھا۔

ریسکیو ترجمان نے تصدیق کی کہ لاش سیالکوٹ کے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ کی ہے۔ رشتہ داروں کی شناخت کے بعد ڈسکہ روانگی کی تیاریاں مکمل کی گئیں۔

مقامی ریسکیو ٹیم نے شدید دورانیے تک جاری رکھے گئے سرچ آپریشن کے دوران دریائے سوات کے مختلف حصوں پر پلاٹون وار چھان بین کی، جس کا نتیجہ آج سامنے آیا۔

27 جون کو پیش آنے والے حادثے میں کل 17 افراد دریائے سوات کے سیلابی پانی میں ڈوب گئے تھے، جن میں سے چار افراد کو بروقت نکال کر بچا لیا گیا۔

اسی روز 12 افراد کی لاشیں برآمد کی گئی تھیں، مگر عبداللہ کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اس حادثے میں اغلب طور پر نقصان اٹھانے والوں میں 10 کا تعلق سیالکوٹ، 6 کا مردان اور ایک شخص مقامی سوات کا رهائشی تھا۔

افسوسناک واقعہ کے بعد جاں بحق افراد کے رشتے داروں نے ریسکیو فورسز کی دیر سے رسپانس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ ہمارا پیارا سیلابی ریلے کے گرجدار پانی میں پھنس گیا تھا مگر ریسکیو ٹیم ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے پہنچی۔ ہم اس بحران کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہراساں ہوتے دیکھتے رہے۔

Related Posts