بھارت میں 16 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر بھاگنے والے شخص کو حیران کن انداز میں پکڑا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست راجستھان میں پیش آیا۔ شدید عوامی دباؤ اور احتجاج کے باعث پولیس نیند سے جاگی اور ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔
چھاپا مار کارروائیوں میں مسلسل ناکامی کے بعد پولیس کو اطلاع ملی کہ عیار ملزم بھیس بدل کر فرار ہوجاتا ہے جس کا اندازہ پولیس کو نہیں ہوپاتا۔
ایک مخبر کے ذریعے پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم راجندر سسودیا ریاست اترپردیش پہنچ چکا ہے اور ضلع متھرا میں چھپا ہوا ہے۔
راجستھان پولیس نے ایک خفیہ ٹیم تیار کی جس نے ملزم کے خلاف وہی حکمت علمی اپنائی جو ملزم استعمال کیا کرتا تھا۔
سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے مختلف بھیس بدل کر ملزم کا تعاقب شروع کیا اور اس کے ٹھکانے تک بھی پہنچ گئے۔
ملزم ان سب سے بے خبر تھا اور وہ ایک خاتون کا روپ دھار کر باہر نکلا تاکہ پولیس کو شک نہ ہو۔ ایک لمحے کے لیے پولیس اہلکاروں کو بھی لگا کہ یہ کوئی خاتون جا رہی ہیں۔
ان اہلکاروں نے وقت ضائع کیے بغیر خاتون کو رکنے کا کہا لیکن خاتون نے ’’مردانہ وار‘‘ دوڑ لگادی لیکن پولیس سے کب فرار ممکن ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک موڑ پر پولیس اہلکاروں نے ملزم کو حصار میں لے لیا اور اسے نقاب اتارنے کا کہا تو برقع میں سے ملزم نکل آیا۔ جس نے سرخی بھی لگا رکھی تھی۔
اس پر الزام تھا کہ 15 دسمبر کو 16 سالہ لڑکی اور اس کے بھائی کو نوکری کا جھانسہ دے کر اپنے گھر بلایا اور بھائی کو بازار بھیج کر لڑکی سے زیادتی کی۔
متاثرہ لڑکی کے چیخنے پر پڑوسی موقع پر پہنچ گئے اور پولیس کو اطلاع دی لیکن عوامی احتجاج کے باوجود ملزم فرار ہوگیا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ملزم کبھی ٹریک سوٹ یا جیکٹ پہن کر خود کو وی آئی پی یا اعلیٰ پولیس افسر ظاہر کرتا اور ناکے سے بچ نکلتا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








