یورپی ملک رومانیہ کی عدالت میں 90ء کی دہائی میں بے شمار ایکشن فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے والے فنکار جین کلاؤڈ وین ڈیم کے خلاف شکایت دائر کی گئی ہے جس میں سنگین جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق وین ڈیم کو انسانی اسمگلنگ کے ذریعے اغوا کرکے لائی گئی خواتین کے ساتھ تمام تر صورتحال کا علم ہونے کے باوجود جنسی استحصال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ فائٹر فلم کے 64سالہ ہیرو نے مجرمانہ گروہ کی جانب سے خواتین کو بطور تحفہ قبول کیا۔
مجرم گروہ پہلے ہی انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے الزامات کے تحت تفتیش کا سامنا کررہا ہے۔ رومانیہ کے ڈائریکٹوریٹ برائے انوسٹیگیٹنگ آرگنائزڈ کرائم اینڈ ٹیررازم نے اپنی شکایت میں وین ڈیم پر الزام عائد کیا کہ اداکار کو خواتین کی صورتحال کا پوری طرح علم تھا جس نے ان کی مدد کرنے کی بجائے فائدہ اٹھایا۔

متاثرہ خواتین کی وکالت کرنے والے اٹارنی ایڈریان کوکولس کا کہنا ہے کہ خواتین استحصال کا شکار تھیں اور شک یہ تھا کہ ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تمام تر صورتحال کا علم رکھتے ہوئے بھی وین ڈیم نے کینز کے ایک ایونٹ میں اسمگل کی گئی 5رومانین خواتین کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنے سے گریز نہیں کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ موریل بولیا نامی ایک رومانین کاروباری شخصیت کے مجرمانہ نیٹ ورک سے منسلک ہے جو ایک ماڈلنگ ایجنسی بھی چلاتے ہیں اوریہ معاملہ 2020 سے جاری انسانی اسمگلنگ اور نابالغ افراد کے استحصال کے ایک بڑے کیس کا حصہ ہے۔ واقعے کی تفصیلات سامنے آنے پر وین ڈیم کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب ایکشن ہیرو وین ڈیم نے خود یا اپنے نمائندوں کے ذریعے تاحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ شکایت سامنے آنے پر وین ڈیم کے متعلق سوشل میڈیا صارفین اور اداکار کے مداحوں کے مابین نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں وین ڈیم کو انتہائی سنگین نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








