پاک بھارت اور پاک افغان تعلقات میں جاری شدید کشیدگی کے ماحول میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا دورہ بھارت جاری ہے، جس کے دوران انہوں نے ہفتے کے روز بھارتی ریاست اترپردیش میں قائم تاریخی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا بھی دورہ کیا۔ دارالعلوم پہنچنے پر ان کا بھرپور اور گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔
دار العلوم دیوبند کے دورے کے دوران ملا امیر خان متقی نے جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور دیگر علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں۔ مفتی نعمانی نے افغان وزیر خارجہ کو حدیث کی سند بھی عطا کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ان کی آمد پر دارالعلوم دیوبند اور گردونواح میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ تاہم استقبال کے موقع پر طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد جمع ہونے سے بدنظمی پیدا ہوئی، جس کے باعث پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔

یہ افغانستان کے وزیر خارجہ کا 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلا دورہ بھارت ہے۔ امیر خان متقی نے دارالعلوم کے اساتذہ اور انتظامیہ سے تبادلہ خیال کے ساتھ ادارے کے مختلف حصوں کا معائنہ بھی کیا۔
ذرائع کے مطابق افغان وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران کل آگرہ میں تاج محل کا مشاہدہ کریں گے اور 13 اکتوبر کو دہلی میں بھارتی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
مولانا ارشد مدنی نے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان کے دارالعلوم دیوبند سے گہرے رشتے رہے ہیں۔ ہم نے آزادی ہند کی لڑائی میں افغانستان کی زمین سے مدد حاصل کی۔ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے رشتے اور بھی بہتر ہوں گے۔
واضح رہے کہ دارالعلوم دیوبند میں فی الوقت افغانستان کے تقریباً 20 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن سے متقی نے ملاقات کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








