کیا آپ بھی رات گئے تک فون کی اسکرین پر انگلیاں چلانے کے عادی ہیں؟ اگر ہاں تو یہ عادت آپ کی نیند اور دماغ دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔
تازہ تحقیق کے مطابق جو لوگ رات کے وقت سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے ہیں، ان میں ڈپریشن، بے چینی اور نیند کی خرابی کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف برسٹل کے ماہرین نے ایک منفرد تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ سوشل میڈیا کے استعمال کا وقت بھی کیا ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے؟ اس مقصد کے لیے ماہرین نے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 310 افراد کی رات کے وقت کی سرگرمیوں کا پندرہ سالہ ڈیٹا کھنگالا جنہوں نے 2008 سے 2023 تک اٹھارہ ہزار سے زائد ٹویٹس کیے تھے۔
نتائج چونکا دینے والے تھے۔ وہ صارفین جو رات 11 بجے سے صبح 5 بجے کے درمیان زیادہ پوسٹ کرتے تھے، ان کی ذہنی صحت دن کے وقت پوسٹ کرنے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کمزور پائی گئی۔ مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کے اوقات میں سوشل میڈیا سرگرمی ڈپریشن اور بے چینی سے براہ راست منسلک ہے۔
تحقیق کے مطابق اس رجحان کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں۔ رات گئے جاگنے سے جسم کا قدرتی نیند کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ موبائل اور لیپ ٹاپ کی نیلی روشنی نیند لانے والے ہارمون میلاٹونن کی پیداوار کم کر دیتی ہے۔ رات کے وقت پوسٹس یا پیغامات پر ردعمل دینے سے غیر ضروری ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل مل کر نیند کی تاخیر اور اس کے معیار میں کمی کا باعث بنتے ہیں، اور جب نیند متاثر ہو تو ذہنی سکون بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔
مطالعہ کے مرکزی مصنف ڈینیئل جوائن سن کے مطابق، سوشل میڈیا کا اثر صرف استعمال کی مقدار پر نہیں بلکہ اس کے وقت پر بھی منحصر ہے۔ رات کے وقت پوسٹ کرنا ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو آہستہ آہستہ ذہنی صحت کو کمزور کرتا ہے۔ ان کے بقول، اگر سوشل میڈیا کے استعمال کو دن کے وقت تک محدود کیا جائے تو ذہنی سکون اور نیند دونوں میں بہتری ممکن ہے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے نتائج پالیسی سازوں کو سوشل میڈیا کے صحت مند استعمال کے لیے نئے اصول طے کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
مختصر یہ کہ رات گئے سوشل میڈیا کی چمکتی اسکرینیں وقتی تسکین تو دے سکتی ہیں، مگر اندر ہی اندر ذہنی توانائی اور نیند کا سکون نگل لیتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








