طالبان افغان قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، انہیں عوام سے نہ جوڑا جائے، افغان رہنما

تازہ ترین

تازہ ترین

سابق افغان سفیر برائے پاکستان عمرداودزئی، فائل فوٹو

سابق افغان وزیرِ داخلہ عمر داود زئی نے کہا ہے کہ طالبان افغان عوام کی نمائندگی نہیں کرتے، پاکستان کی جانب سے طالبان کے ساتھ جنگ کو افغان عوام سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ طالبان افغانستان کی کل آبادی کا محض پانچ فیصد ہیں۔

افغانستان کی سابق حکومت کے اس سینئر عہدیدار نے پاکستان کے سپہ سالار کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فیس بک پر ایک تحریر میں لکھا کہ اگر پاکستان کے آرمی چیف کی بات کا مقصد ڈیورنڈ لائن کے اُس پار آباد افغان باشندے ہوں تو ممکن ہے بات کسی حد تک درست ہو، تاہم انہوں نے زور دیا کہ افغان طالبان ملک کی پانچ فیصد سے بھی کم آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ افغان عوام کے نمائندہ نہیں ہیں۔

داوودزی کے مطابق افغان عوام نے بارہا واضح طور پر کہا ہے کہ ان کی پاکستان کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں۔

سابق وزیرِ داخلہ، جو ماضی میں پاکستان میں افغانستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں، نے مزید لکھا کہ پاکستان کا اصل تنازع تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ ہے اور شاید افغان طالبان کے ساتھ بھی، لیکن اس جنگ کو افغان عوام کے خلاف تصادم کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اس کو جواز بنا کر افغان مہاجرین کو نشانہ بنایا جانا چاہیے۔

داوودزی نے یاد دہانی کرائی کہ اگست 2021 میں افغانستان کی سابق حکومت کی جیلوں سے ٹی ٹی پی کے ہزاروں رہنما رہا کیے گئے تھے۔ ان کے بقول ماضی میں پاکستانی طالبان افغان طالبان کے ساتھ مل کر اُس وقت کی افغان حکومت کے خلاف لڑتے رہے، لیکن آج ان کا ہدف ریاستِ پاکستان کا تختہ الٹنا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حد سے زیادہ عمومی بیانات اور ذمہ داری سے فرار نہ صرف مسئلے کا حل نہیں بلکہ حالات کو مزید پیچیدہ بنا کر کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔

داوودزی نے زور دیا کہ آج کی ضرورت اجتماعی الزامات اور کسی پوری قوم کو دشمن بنانے کے بجائے پالیسی سازی میں شفافیت، دیانت داری اور ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ’’70 فیصد‘‘ جنگجو افغان ہیں۔

پاکستان کے آرمی چیف نے یہ بات 10 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی قومی علما کانفرنس میں کہی۔ اس خطاب کی تفصیلات اگلے دن پاکستانی میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں اور شائع ہوئیں۔

Related Posts