ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو خیرباد کہنے والے بھارتی بیٹر ویرات کوہلی کی ریٹائرمنٹ کا چرچا صرف کھیل کے میدانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاست اور نظریات کی دنیا سے بھی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔
افغان طالبان کے مرکزی رہنما انس حقانی نے بھارتی صحافی شوبھانکر مشرا کے پوڈ کاسٹ میں دوران گفتگو ویرات کوہلی کی ریٹائرمنٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ کوہلی مزید کئی سالوں تک کھیلتے رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روہت شرما کا ریٹائر ہونا قابل فہم ہے لیکن کوہلی کا فیصلہ حیران کن ہے۔ دنیا میں کوہلی جیسے کھلاڑی بہت کم ہوتے ہیں۔
انس حقانی نے تجویز دی کہ ویرات کوہلی کو اپنی فٹنس برقرار رکھنی چاہیے تاکہ وہ 50 برس کی عمر تک بھی کرکٹ کھیل سکیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ شاید بھارتی میڈیا کی تنقید نے کوہلی کو جلد فیصلہ لینے پر مجبور کیا ہو مگر ابھی ان کے کھیلنے کے کئی سال باقی ہیں۔
کھیل کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب ایک شدت پسند تنظیم کا نمائندہ بھی ایک کھلاڑی کی واپسی کی خواہش کرے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ویرات کوہلی صرف ایک کرکٹر نہیں بلکہ ایک عالمی شخصیت بن چکے ہیں جن کی مقبولیت سرحدوں اور نظریات سے بالاتر ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ ویرات کوہلی کی ریٹائرمنٹ پر صرف انس حقانی ہی نہیں کرس گیل جیسے مایہ ناز کھلاڑی بھی حیرت اور افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔
کرس گیل نے کہا تھا کہ ویرات نے بہت جلد ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ دی۔ کھیل کو ان کی ضرورت ہے وہ کرکٹ کا ایک بڑا چہرہ ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کے سابق کپتان اور مایا ناز بلے باز ویرات کوہلی کا کیریئر بھی اپنی مثال آپ رہا۔ 14 سالہ طویل انٹرنیشنل سفر میں انہوں نے 123 ٹیسٹ میچوں میں 9,230 رنز بنائے جس میں 30 سنچریاں اور 7 ڈبل سنچریاں شامل ہیں اور سچن تنڈولکر، راہل ڈریوڈ جیسے لیجنڈز کی صف میں کھڑے ہو گئے۔
بطور ٹیسٹ کپتان کوہلی نے 68 میچز میں قیادت کی اور 40 فتوحات حاصل کیں جو ایک قابلِ فخر ریکارڈ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اچانک ریٹائرمنٹ پر نہ صرف مداح بلکہ کئی سابق کرکٹرز اور تجزیہ کار بھی حیران ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








