ایشیا کپ 2025 کا سب سے بڑا، سب سے سنسنی خیز مقابلہ آج دبئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا لیکن اس میچ میں صرف بلّا اور گیند نہیں چلیں گے بلکہ جذبات، سیاست اور اعصاب کی جنگ بھی پوری شدت سے جاری ہے۔
گراؤنڈ کے اندر دونوں ٹیمیں اپنی تیاریاں مکمل کر چکی ہیں لیکن گراؤنڈ سے باہر کا ماحول حد درجہ کشیدہ اور جذباتی ہو چکا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک کرکٹ میچ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے وقار اور عوامی جذبات کا امتحان ہے۔
بھارتی ٹیم کی پریس کانفرنس میں شریک معاون کوچ رائن ٹن ڈوسکاٹے کو توقع کے برخلاف کرکٹ سے زیادہ سیاسی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے باعث میڈیا کی توجہ ٹیم کمبی نیشن سے ہٹ کر سیاسی ماحول اور عوامی جذبات پر مرکوز رہی۔
ٹن ڈوسکاٹے نے تسلیم کیا کہ کھلاڑیوں پر عوامی دباؤ موجود ہے لیکن میدان میں اترتے وقت ان کی توجہ صرف کھیل پر مرکوز رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیم کو یہی پیغام دیا ہے کہ جو چیزیں ان کے کنٹرول میں نہیں ان پر فوکس نہ کریں۔ میدان میں جذبات سے ہٹ کر، مکمل پروفیشنل انداز اپنانا ہوگا۔
پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے کچھ نمائندوں نے کھیل کو احتجاج کا ذریعہ بنانے جیسے نازک موضوعات پر سوالات بھی اٹھائے تاہم بھارتی کوچ نے کسی بھی سوال سے گریز نہیں کیا اور نہایت محتاط انداز میں تمام نکات پر گفتگو کی۔
دوسری جانب پاکستان نے میڈیا سے نمٹنے کے لیے نوجوان اوپننگ بلے باز صائم ایوب کو آگے کیا جنہوں نے سنجیدہ سوالات کا جواب سادگی، مزاح اور اعتماد سے دیا۔ بھارتی ٹیم کے خلاف حالیہ شکستوں سے متعلق سوال پر صائم کا مختصر مگر پُراثر جواب تھا کہ ماضی، ماضی ہوتا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 23 سالہ صائم ایوب نے ابھی تک بھارت کے خلاف کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا۔ جب ان سے پچھلے ورلڈ کپ میں ریزرو بینچ پر بیٹھنے کے تجربے سے متعلق پوچھا گیا تو مسکراتے ہوئے کہا اگر آپ نے یہ سوال پچھلے سال کیا ہوتا تو شاید بہتر جواب دے پاتا۔
اپنی حالیہ فارم پر سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی ہر بار میچ نہیں جیت سکتا۔ ٹیم 11 کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر دن کسی نہ کسی کو آگے آنا ہوتا ہے۔
دباؤ سے متعلق سوال پر صائم نے واضح کیا کہ ہمارے لیے یہ صرف ایک اور میچ ہے۔ ہمیں اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہے، باقی نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
پاکستان اس بار ایک نئے کپتان اور کوچنگ اسٹاف کے ساتھ میدان میں اترے گا اور اس نوجوان ٹیم کا ہدف نہ صرف بھارت کے خلاف حالیہ ناکامیوں کا سلسلہ توڑنا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ جذبے، اعتماد اور ٹیم ورک سے بڑے سے بڑا چیلنج بھی ممکن ہے۔
بھارت کی ٹیم جس نے حالیہ سیریز میں شاندار کارکردگی دکھائی اپنے مداحوں کو ایک اور بڑی فتح کا تحفہ دینا چاہے گی تاہم دبئی کے اس میدان میں پاکستانی ٹیم کا حوصلہ اور جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا یہ میچ صرف دو ٹیموں کی ٹکر نہیں بلکہ یہ ایک ایسا مقابلہ ہے جو سرحد کے دونوں جانب کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔ سیاست، تاریخ، جذبہ، اور اسپورٹس کا یہ امتزاج دنیا بھر کے شائقین کو اپنی جانب متوجہ کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ پاک وقت کے مطابق شام 7:30 بجے ٹاس ہوگا اور چند لمحوں بعد دبئی کا میدان گواہ بنے گا اُس ٹاکرے کا جس کا انتظار برسوں سے کیا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








