پابندیوں کے بعد ملا برادر کی قیادت میں افغان طالبان کے وفد کا دورۂ پاکستان

تازہ ترین

تازہ ترین

پابندیوں کے بعد ملا برادر کی قیادت میں افغان طالبان کے وفد کا دورۂ پاکستان
پابندیوں کے بعد ملا برادر کی قیادت میں افغان طالبان کے وفد کا دورۂ پاکستان

افغان امن عمل میں  پاکستان کا کلیدی کردار اب کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا جبکہ ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں افغان طالبان کے وفد کی آج اسلام آباد آمد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں افغان طالبان کا وفد افغان مصالحتی عمل پر گفت و شنید کیلئے پاکستان پہنچا ہے جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں امن ہمیشہ سے پاکستان کی ترجیح رہی ہے۔

آئیے افغان طالبان کے وفد کے دورۂ پاکستان کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت افغان امن عمل کیلئے کیا کردار ادا کرسکتی ہے۔

افغانستان کی آزادی سے لے کر خانہ جنگی تک

ہمسایہ ملک افغانستان کے محلِ وقوع کا جائزہ لیا جائے تو یہ وسط اور جنوبی ایشیاء میں واقع ایسا ملک ہے جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ افغانستان رکھا گیا۔ اس کے جنوب اور مشرق میں پاکستان، شمال مشرق میں چین، شمال میں ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان اور مغرب میں ایران واقع ہیں۔

سیاسی اعتبار سے افغانستان پر یونانی، ایرانی، عرب، ترک، منگول، برطانیہ، روس اور امریکا قابض رہے ہیں تاہم افغان عوام نے غلامی کی ہمیشہ مخالفت کی۔

پاکستان اور بھارت کی طرح افغانستان پر بھی پہلے برطانیہ کی جزوی حکومت تھی جس سے افغانستان نے 1919ء میں آزادی حاصل کی تاہم آج بھی افغانستان کو مکمل طور پر آزاد ملک قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بلاشبہ امریکی اثر رسوخ افغان علاقوں پر آج بھی محسوس کیاجاسکتا ہے جبکہ گزشتہ 35 برس سے یہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ مسلسل خانہ جنگی نے افغانستان کے بیشتر علاقوں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔

جس طرح ہم پاکستان کی اسٹرٹیجک پوزیشن کی بات کرتے ہیں، بالکل اسی طرح افغانستان بھی خطے میں محلِ وقوع کی بنیاد پر بے حد اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ جنوبی و وسطی ایشیاء اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان میں ہے۔ جنگی لحاظ سے امریکا اور روس جیسی طاقتیں ہمیشہ سے افغانستان میں اثر رسوخ کیلئے برسرِ پیکار رہی ہیں۔

عالمی طاقتیں ناکام کیوں؟ 

حیرت انگیز طور پر روس اور امریکا دونوں نے ہی افغانستان پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے اپنے وسائل افغانستان میں جھونک دئیے لیکن کسی کو بھی افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی جس کی بڑی وجہ یہاں کی سرزمین اور قبائلی عوام ہیں جو بیرونی دباؤ کبھی قبول نہیں کرتے۔

سرزمین کے اعتبار سے غور کیا جائے تو زیادہ تر افغانستان کا علاقہ پتھریلا اور پہاڑی ہے۔ طالبان کے ایک رہنما کے بیان کے مطابق افغانستان گوند کا تالاب ہے جہاں عالمی طاقتیں اپنی مرضی سے آ تو سکتی ہیں لیکن یہاں سے جانا اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب طالبان یا عوام چاہیں۔

روس اور امریکا کی فوج زیادہ تر ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتی ہے جبکہ طالبان اور مقامی افراد یہاں کے پہاڑی علاقوں کی بھول بھلیوں سے خوب واقف ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی طرف سے اخلاقی و سیاسی حمایت بھی افغانستان کو ہمیشہ سے حاصل رہی ہے۔ 

افغان امن عمل سے مراد؟

غور طلب بات یہ ہے کہ افغان امن عمل سے مراد ایک ایسا عمل ہے جو افغانستان میں مشروط امن لائے گا کیونکہ افغان طالبان، امریکا اور پاکستان تینوں کے نزدیک اِس کا مطلب الگ الگ ہے۔

خطے  میں تھانیداری کا خواب دیکھنے والا امریکا اپنی فوج کی افغانستان سے غیر مشروط اور پر امن واپسی تو چاہتا ہے لیکن وہ خطے میں تھانیداری کے خواب سے دستبردار بھی نہیں ہونا چاہتا۔ اثر رسوخ برقرار رکھنے کیلئے امریکا یہاں داعش، راء اور این ڈی ایس سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کی مدد سے کچھ نہ کچھ سازشیں برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان، افغان عوام اور پاکستان تینوں افغانستان میں غیر مشروط امن چاہتے ہیں جس کیلئے امریکا کی فوج کی واپسی کے ساتھ ساتھ دہشت گرد اور انٹیلی جنس تنظیموں کی نقل و حرکت کو بھی ختم کرنا اہم عمل ہے۔ افغان طالبان کا موجودہ دورۂ پاکستان اسی افہام و تفہیم کا ایک اہم حصہ ہے۔ 

ہمسایہ ملک میں امریکا کی دوغلی پالیسی

دہشت گردی کیا ہے، اِس کی تعریف ہمیشہ سے امریکا نے اپنی مرضی سے توڑ مروڑ کر تبدیل کی جس پر عالمی برادری کے بیشتر ممالک کبھی کھل کر کچھ نہ کہہ سکے۔ افغانستان میں امریکا نے ایسے افراد کو اپنا آلۂ کار بنایا جو پہلے روس کے خلاف کام کرتے تھے تاکہ روس افغانستان کو چھوڑ کر چلا جائے۔

بعد ازاں امریکا نے ان ہی افراد کو دہشت گرد کہنا شروع کردیا جبکہ اسامہ بن لادن اور اس کے حواری بھی ایسے ہی افراد میں شامل تھے جن سے  امریکا نے خود کسی دور میں دوست کی طرح سلوک کیا تھا۔ یہ لوگ روس کے خلاف جہاد میں شریک رہے لیکن 11 ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا الزام القاعدہ پر عائد کیا گیا۔

سابق صدر پرویز مشرف نے افغانستان پر پاکستان کی پالیسی کو یکلخت تبدیل کرتے ہوئے امریکا کی بے جا حمایت کی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا نے افغانستان پر 7 اکتوبر 2001ء میں حملہ کرکے عملی طور پر خطے کو اپنا دستِ نگر بنا لیا، لیکن گزشتہ 19 برس سے مسلسل جنگ کے باوجود امریکا یہاں کا باضابطہ حکمران بننے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

پاکستان میں افغانستان کی مدد سے دہشت گردی 

امریکی ایماء پر افغانستان میں حامد کرزئی کی حکومت قائم ہوئی۔ 9 اکتوبر 2004ء کو افغانستان کے صدر بننے والے حامد کرزئی کی کٹھ پتلی حکومت امریکا کی دستِ نگر رہی۔ امریکی اتحادی افواج ہی افغانستان پر درِ پردہ حکمران ہیں جس سے بھارت کا خطے میں اثر رسوخ بڑھ رہا ہے۔

بھارت اور امریکا نے پاکستان میں بلوچستان کے متعدد علاقوں میں دہشت گردی کروائی۔ حتیٰ کہ مئی 2007ء میں پاک فوج اور افغانستان کے مابین جھڑپ بھی ہوئی جس میں دونوں طرف جانی نقصان ہوا۔ ڈرون طیارے پاکستان میں بھیج کر امریکا نے پاکستان میں کھلم کھلا دہشت گردی بھی کی جس کے نتیجے میں بے شمار پاکستانی شہید ہوئے۔ 

 امن عمل کی کامیابی خطے کی سلامتی

آج پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت، امریکا اور افغان طالبان سمیت افغان امن عمل کے تمام فریقین یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر خطے میں امن چاہئے تو افغانستان میں قیامِ امن بے حد اہم ہے۔

غور کیا جائے تو افغانستان میں قیامِ امن پاکستان سمیت سی پیک سے منسلک تمام ممالک کیلئے اہم ہے کیونکہ اگر سی پیک سے فائدہ اٹھانا ہے تو اس کا خواب قیامِ امن کے بغیر شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ بھارت ہمیشہ سے افغانستان میں امن کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا جس کی ناکامی خطے کے امن کیلئے ضروری ہے۔ 

وزیرِ خارجہ (پاکستان) شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغان امن عمل جس جگہ آج موجود ہے، اس میں سب کی کاوشیں اہم ہیں۔ امن عمل غیر معمولی مقام پر ہے۔ باقی ماندہ معاملات کے حل کیلئے بین الافغان مذاکرات بھی ضروری ہیں۔

پاکستان افغانستان میں اِس لیے امن چاہتا ہے تاکہ امریکا اپنی فوج ہمسایہ ملک سے نکالے، بھارت کا وہاں سے اثر رسوخ ختم ہو اور نتیجتاً پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کیا جائے۔

خطے  میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوگا جب تک امریکا اپنی افواج افغانستان سے نہیں نکالتا جس کیلئے اسے افغان طالبان کی حمایت درکار ہے جبکہ افغان طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر اپنے وطن میں امن لانا چاہتے ہیں۔

 

Related Posts