پیرس: عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایلون مسک کی مائیکرو بلاکنگ ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر خبروں کی مد میں رقم کی ادائیگی کے معاملے پر مقدمہ دائر کردیا۔
اے ایف پی نے پیرس میں ٹوئٹر پر مقدمہ دائر کیا جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نیوز ایجنسی کے مواد کی تقسیم کیلئے ممکنہ ادائیگی پر بات کرنے میں ناکام رہا ہے۔
خیال رہے کہ فرانس نے 2019 میں کاپی رائٹ کا ایک قانون نافذ کیا تھا جسے “ہمسائیوں کے حقوق” کہا جاتا ہے جو بڑے آن لائن پلیٹ فارمز کو خبروں کے لیے معاوضے کے حصول کے لیے پبلشرز کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
پاکستان میں یوٹیوب میوزک اور یوٹیوب پریمیم کا آغاز ہوگیا
دوسری جانب ایلون مسک نے اے ایف پی کے مقدمہ کرنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب ہے۔ نیوز ایجنسی چاہتی ہے کہ ہم انہیں ان کی سائٹ پر ٹریفک کے لیے ادائیگی کریں جہاں سے وہ اشتہارات سے آمدنی حاصل کرتے ہیں اور ہم ایسا نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ 2021 میں، فرانس کے اینٹی ٹرسٹ واچ ڈاگ نے الفابیٹ (GOOGL.O) گوگل کو ملک کے نیوز پبلشرز کے ساتھ بات چیت کرنے کے طریقہ کار کے احکامات کی تعمیل کرنے میں ناکامی پر 500 ملین یورو کا جرمانہ کیا گیا تھا۔
تب سے گوگل نے تنازع کو حل کرنے کا عہد کیا ہے اور اے ایف پی سمیت کئی دیگر معروف فرانسیسی خبر رساں اداروں کے ساتھ معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔
اسی طرح فیس بک کمپنی میٹا نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلئے کچھ فرانسیسی پبلشرز کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








