ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندوتوا نواز حکومت میں بھارتی مسلمانوں کی زندگی جہنم بن کر رہ گئی ہے جبکہ مودی حکومت معاشرے میں افہام و تفہیم اور رواداری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے ہے۔
اب 2024 کے انتخابات سے قبل بھی فرقہ وارانہ تشدد کی نئی لہر کا خدشہ ہے اور بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے قریب ریاست ہریانہ کے مسلم اکثریتی اضلاع میں گزشتہ 7روز کے دوران تشدد کے واقعات نے عوام میں اشتعال کو جنم دیا ہے۔
تشدد کے واقعات مسلم اکثریتی ضلع نوح میں شروع ہوئے جہاں ایک ہندو جلوس جان بوجھ کر تصادم کو ہوا دینے کیلئے گزرااور اس دوران جھڑپوں کے نام پر 5 افراد کو قتل کردیا گیا۔ بعد ازاں یہ تشدد سے بھرپور واقعات کاروباری مرکز گروگرام تک پھیل گئے جہاں کرفیو نافذ کرنا پڑ گیا۔
ہجوم نے فائرنگ کی اور مسجد کے باہر ایک نمازی جاں بحق ہوگیا۔ مسجد رجسٹرڈ ہونے کے باوجود ہندو انتہا پسند نمازِ جمعہ کے خلاف مہم چلاتے نظر آئے تاہم حکومت نے ان تمام تر واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔
حالانکہ ہندو انتہا پسند پہلے ہی مسلم اکثریتی علاقوں میں جلوس نکالنے کی دھمکی دے چکے تھے۔ ہندوتوا پر مبنی گروہ کے ایک رکن نے جلوس نکالنے پر زور دیتے ہوئے ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ گائے کے محافظ کہلانے والے مونو مانیسر مسلم مخالف تشدد کی ویڈیوز کے باعث بدنام اور 2019 میں دو مسلمانوں کے قتل پر پولیس کو مطلوب ہیں۔
جرائم کے ثبوت دستیاب ہونے کے باوجود مقامی حکومت نے انتہا پسند تنظیموں کے خوف کے باعث کوئی کارروائی نہیں کی اور تشدد ، ظلم اور جبر کا یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔
ایک اور نفرت انگیز جرم ممبئی میں میلوں دور اس وقت ہوا جب ایک ریلوے کانسٹیبل نے چلتی ٹرین میں 4 افراد کو قتل کیا جن میں سے ایک ہندو اور اس کا باس تھا لیکن دیگر 3 مسلمان مسافر تھے جن کی شناخت اس نے داڑھیوں کی وجہ سے کی۔ قتل کے بعد اس وحشی درندے نے فرقہ وارانہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان زندہ رہنا چاہتے ہیں تو مودی اور اتر پردیش کے انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی آدیتیا ناتھ کو ووٹ دیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اقلیتی تشدد کے کئی واقعات رونما ہوئے۔ 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں مذہب کے نام پر جھڑپوں میں 50 سے زائد افراد کو قتل کردیا گیا جو شہریت کا کالا قانون منظور ہونے کے بعد دہائیوں کا بد ترین اقلیتی تشدد تھا۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر جھڑپوں پر قابو نہیں پایا گیا تو تشدد کی یہ تازہ لہر مکمل بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اپنے حالیہ دورۂ امریکا کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ جھوٹا اور بے بنیاد بیان دیا کہ بھارت میں اقلیتوں پر کوئی ظلم نہیں ہوتا جبکہ مودی کے دورِ حکومت میں تعصب اور نفرت کی آگ میں اضافہ ہوا جس سے اقلیتوں کے خلاف جرائم بڑھ گئے اور پورے بھارت کی فضا تناؤ کی گرد سے آلودہ ہوتی چلی گئی۔ بی جے پی آئندہ انتخابات میں جیت حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کو شہید کرتی جارہی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو توقع ہے کہ انتخابات میں جیت ایک بار پھر ان کی ہوگی۔ اگر ایسا ہوا تو بھارت میں افہام و تفہیم اور رواداری کا نام لیوا شاید کوئی نہ بچے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں