پی آئی اے کے بعد اب روزویلٹ ہوٹل، پاکستان کے قیمتی اثاثوں کا صفایا شروع؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پی آئی اے کا ملکیتی قیمتی اثاثہ روزویلٹ ہوٹل نیویارک، فائل فوٹو

عالمی مالیاتی جریدے بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے نیویارک کے تاریخی روزویلٹ ہوٹل کے مستقبل سے متعلق مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے، جن میں اس عمارت کو گرا کر نئی فلک بوس عمارت تعمیر کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت طے شدہ اصلاحاتی اہداف کو پورا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

نیویارک کے مڈ ٹاؤن مین ہیٹن میں واقع یہ سو سالہ قدیم ہوٹل سابق امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے نام سے منسوب ہے اور پاکستان کے قیمتی غیر ملکی اثاثوں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان نے یہ عمارت 2000 میں خریدی تھی۔ مالی نقصان کے باعث، 1000 سے زائد کمروں پر مشتمل یہ ہوٹل 2020 میں بند کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں مہاجرین کے عارضی قیام کے لیے استعمال ہوتا رہا۔

بلومبرگ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے جولائی 2025 میں “روزویلٹ ہوٹل کے لین دین کا ڈھانچہ” منظور کیا، جس کے تحت ہوٹل کو فروخت نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے مشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچر) کے تحت ترقی دی جائے گی تاکہ اس کی طویل مدتی قدر میں اضافہ کیا جا سکے۔

پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دوسرے نمبر پر آگیا، جانئے کیسے؟

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بلومبرگ کو بتایا کہ ایک تجویز یہ ہے کہ “اس تاریخی عمارت کو گرا کر اس کی جگہ ایک جدید فلک بوس عمارت تعمیر کی جائے۔” ان کے مطابق، حکومت چاہتی ہے کہ پارٹنر سرمایہ فراہم کرے جبکہ پاکستان زمین کی ملکیت برقرار رکھے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ اگر اقتصادی طور پر مناسب ہو تو ہوٹل کو برقرار رکھا جائے۔

محمد علی نے کہا کہ “آئندہ چند ماہ میں صورتِ حال واضح ہو جائے گی، جب مارکیٹ کا تجزیہ مکمل ہوگا اور جوائنٹ وینچر پارٹنر کا انتخاب کیا جائے گا۔”

بلومبرگ کے مطابق، وفاقی حکومت ریاستی ملکیت کے اداروں کی تنظیمِ نو اور نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے تاکہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جا سکیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلا اثاثہ جو فروخت کیا جا سکتا ہے، وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) ہے، جو اب تک حکومتی مالی امداد پر چل رہی تھی۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ مزید نقصان برداشت نہیں کر سکتی۔

محمد علی کے مطابق، “پی آئی اے خریدنے میں دلچسپی رکھنے والے گروپ ملک کے بڑے کاروباری ادارے ہیں اور اسے منافع بخش بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔” ان کے اندازے کے مطابق، ایئرلائن کو دوبارہ منافع میں لانے کے لیے تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

بلومبرگ نے مزید بتایا کہ حکومت روزویلٹ ہوٹل کے لین دین کے لیے مالی مشیر مقرر کرنے کے عمل میں ہے۔ بعض تجزیہ کار اس تاریخی عمارت کو “نیا ایلس آئی لینڈ” قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ماضی میں یہ عمارت امریکہ میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے قیام کا مرکز سمجھی جاتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، سات بین الاقوامی گروپس کی بولیوں کے بعد حکومت اکتوبر کے آخر تک نیا مالی مشیر مقرر کرے گی۔ ان گروپس میں Citigroup Inc, CBRE Group Inc اور Savills PLC شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی آئی اے نے 2025 کی پہلی ششماہی میں قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے، جو تقریباً بیس سال بعد ممکن ہوا۔ کمپنی کے ذرائع کے مطابق، یہ مثبت پیش رفت قومی ایئرلائن کی ممکنہ فروخت سے پہلے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایک امید افزا اشارہ ہے۔

Related Posts