حملے کے بعد ٹرمپ کی مقبولیت آسمان پر پہنچ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو امریکی میڈیا

 ڈونلڈ ٹرمپ پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد اس واقعے پر ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور کئی با اثر شخصیات نے ان کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

ارب پتی امریکی ہیج فنڈ منیجر بل اکمان نے ’ایکس ‘پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ وہ امریکی صدارتی دوڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے صرف اس کی تائید کی ہے لیکن آپ مجھے جانتے ہیں۔ میں اہم موضوعات کے بارے میں لمبی پوسٹس لکھتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ میری سوچ کو سمجھیں تاکہ یہ زیادہ با معنی ہو اور دوسروں کو صحیح جگہ پر پہنچنے میں مدد کرے۔

ٹیسلا اور ’ایکس‘ کے مالک ایلون مسک نے اعلان کیا کہ وہ نومبر میں ہونے والی انتخابی دوڑ میں باضابطہ طور پر ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں۔

ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے مسک نے لکھا کہ ’میں صدر ٹرمپ کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں‘۔

اس سے قبل پنسلوانیا میں ٹرمپ کی ایک ریلی میں گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں، جس کے بعد ایک ویڈیو فوٹیج سامنے آئی۔ ویڈیو میں ریپبلکن صدارتی امیدوار نے مسکراتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ اپنے زخمی کان تک اٹھایا جس سے خون بہہ رہا تھا۔

اس واقعے کے رد عمل میں ریپبلکن سینیٹر مچ میک کونل نے’ایکس‘ پر لکھا کہ “آج رات تمام امریکی شکر گذار ہیں کہ صدر ٹرمپ حملے کے بعد اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہماری سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے”۔

امریکی سینیٹ کے اکثریتی رہ نما چک شومر نے کہا کہ ٹرمپ کی ریلی کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد وہ “پریشان “ہیں۔ ڈیموکریٹ رہ نما شومر نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ “میں پنسلوانیا میں ٹرمپ کی ریلی میں جو کچھ ہوا اس سے خوفزدہ ہوں اور مجھےان کی صحت کی خبر سن کر سکون ملا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ محفوظ ہیں۔ ہمارے ملک میں سیاسی تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے‘‘۔

سابق امریکی ڈیموکریٹک صدر اوباما نے کہا کہ ہماری جمہوریت میں سیاسی تشدد کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ہم سب کو راحت محسوس کرنی چاہیے کہ سابق صدر ٹرمپ شدید زخمی نہیں ہوئے اور اس لمحے کو سیاست میں تہذیب اور احترام کے لیے اپنی وابستگی کی تجدید کے لیے استعمال کریں۔

Related Posts