حیدرآباد کے بندلا گڑھ علاقے میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک بے رحم سوتیلے باپ نے معمولی سی بات پر غصے میں آ کر اپنے 11 سالہ سوتیلے بیٹے محمد اصغر کو بدترین تشدد کرکے ہوئے زمین پر پٹخ دیا جس کے باعث بچہ شدید زخمی ہوگیا بچے کی ماں نے اسے اسپتال منتقل کیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔
پولیس حکام کے مطابق متوفی بچہ کے ساتھ کھیلتے ہوئے دوسرے بچوں نے محمد اصغر کے سوتیلے والد کو کہا کہ یہ گالی دے رہا ہے جس پر سوتیلا باپ شیخ عمران آگ بگولہ ہوا اور اس نے پہلے بچے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اسے اٹھایا اور زور سے زمین پر دے مارا۔
متوفی بچے کی والدہ اور اہل محلہ نے محمد اصغر کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا مگر ڈاکٹرز کی تمام کوششوں کے باوجود وہ زخموں کی تاب نہ لا سکا اور جمعہ کو دم توڑ گیا۔
مرحوم بچے کی ماں نفیسہ نے انکشاف کیا کہ عمران سے ان کی دوسری شادی تھی اور وہ اصغر سے سخت دشمنی رکھتا تھا۔ وہ بچے کو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے سے روکتا تھا اور اکثر ناراض رہتا تھا۔ نفیسہ کے پہلے شوہر سے دو بچے ہیں اور علیحدگی کے بعد انہوں نے تقریباً چھ سال قبل عمران سے شادی کی تھی۔
مرحوم بچے کی والدہ کی شکایت پر چندرائن گٹہ پولیس نے شیخ عمران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ گھریلو تشدد کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے اور بچوں کے حقوق کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ کیا ایک چھوٹی سی بات پر معصوم کی جان لے لی جائے گی؟ یہ وحشت کب ختم ہوگی؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








